اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آذربائیجان کے بعض اسکولوں میں حجاب کرنے والی طالبات کے داخلے پر پابندی نے یہ بنیادی سوال اٹھا دیا ہے کہ آخر ایک طالبہ کو مذہبی لباس اور تعلیم کے حق میں سے کسی ایک کا انتخاب کیوں کرنا پڑے؟ سورۂ نور کی آیت 31 میں لباس کو پاک دامنی اور معاشرے میں ذمہ دارانہ شرکت کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے، نہ کہ خواتین اور لڑکیوں کو سماجی مواقع سے محروم کرنے کے جواز کے طور پر۔
اکتوبر 2026 میں بی بی سی اور الجزیرہ کی رپورٹوں کے مطابق، آذربائیجان کے سرکاری اسکولوں میں لباس سے متعلق نئے ضوابط پر عمل درآمد کے نتیجے میں حجاب کرنے والی بعض طالبات کو کلاسوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ اگرچہ ان ضوابط میں براہِ راست حجاب کا نام نہیں لیا گیا، تاہم ان کے تحت ایسے لباس پر پابندی عائد کی گئی ہے جسے ’’نظامِ تعلیم کے سیکولر اصول‘‘ کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ عملی طور پر اس پابندی کے نتیجے میں بعض طالبات کے لیے تعلیم جاری رکھنے کی شرط دوپٹہ اتارنا بن گئی ہے۔
یہ معاملہ محض اسکول کے لباس کے ضابطے تک محدود نہیں رہا بلکہ تعلیم کے حق اور مذہبی آزادی سے بھی جڑ گیا ہے۔ جس طالبہ کے نزدیک حجاب اس کی دینی ذمہ داری کا حصہ ہے، اس کے لیے کلاس میں داخلے پر پابندی محض نظم و ضبط کی تنبیہ نہیں، بلکہ ایسی صورت حال ہے جس میں اسے اپنے مذہبی عقیدے اور تعلیمی مستقبل میں سے کسی ایک کو چننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
قرآن میں پردہ؛ اخلاقی ذمہ داری کا ایک حصہ
سورۂ نور کی آیت 31 میں لباس کے احکام بیان کرنے سے پہلے مومن خواتین کو نگاہیں نیچی رکھنے اور پاک دامنی اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے: ’’اور اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں۔‘‘ اسلامی مفسرین کی عام تشریح کے مطابق، اس آیت کو بالوں، گردن اور سینے کو ڈھانپنے کے شرعی دلائل میں شمار کیا جاتا ہے، اگرچہ لباس کے بعض استثنائی احکام کی حدود کے بارے میں مفسرین اور فقہا کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ قرآن لباس کے معاملے کو اخلاق اور کردار سے الگ کرکے بیان نہیں کرتا۔ نگاہوں کی حفاظت، پاک دامنی اور حدود کا خیال رکھنا اس دینی ہدایت کے باہم مربوط اجزا ہیں۔ یہ ذمہ داری صرف خواتین تک محدود نہیں۔ اس سے پچھلی آیت میں مومن مردوں کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور پاک دامنی اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
لہٰذا معاشرتی تعلقات میں تمام اخلاقی ذمہ داریوں کا بوجھ صرف خواتین کے لباس پر ڈال کر مردوں کی ذمہ داریوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس نقطۂ نظر سے پردے کی ایک حکمت جسمانی حریم کی حفاظت اور معاشرتی تعلقات میں زینت کے اظہار کو ضابطے میں رکھنا ہے، نہ کہ خواتین کی صلاحیتوں کی نفی کرنا یا انہیں تعلیم اور سرگرمیوں سے محروم کرنا۔ انسانی وقار، عزت اور تحفظ کا حق ہر شخص کو حاصل ہے اور اسے کسی کے لباس سے مشروط نہیں ہونا چاہیے۔
اسکول؛ تعلیم کی جگہ یا لباس کا امتحان؟
سورۂ نور کی آیت 31 میں براہِ راست اسکولوں کے ضوابط یا حکومتوں کی تعلیمی پالیسیوں کا ذکر نہیں ہے۔ تاہم، جس مسلمان طالبہ کے نزدیک حجاب دینی فریضہ ہے، اس کے لیے یہ لباس معاشرے میں موجودگی اور شرکت کے طریقے کا ایک حصہ ہوسکتا ہے۔
ایسی طالبہ کو تعلیم سے روکنے کا مطلب اس کی سماجی شرکت کو محدود کرنا ہے، حالانکہ اس کا تعلق لازماً اس کی علمی صلاحیت یا تعلیمی رویے سے نہیں ہوتا۔ حکومتیں نظم و ضبط، حفاظت اور تعلیمی ماحول سے مطابقت کے لیے لباس کے ضوابط مقرر کرسکتی ہیں، لیکن ان ضوابط کا ضروری، متناسب اور امتیازی سلوک سے پاک ہونا بھی لازمی ہے۔
آذربائیجان کے معاملے میں بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا اسکول کے لباس کے ساتھ ہم آہنگ دوپٹے کی اجازت دے کر بھی نظم و ضبط برقرار نہیں رکھا جاسکتا؟
اس غیر اخلاقی اقدام کے پیچھے کون سی پالیسی کارفرما ہے؟ جنگی جرائم صرف بموں اور دستی بموں سے ہی نہیں ہوتے؛ بچوں کو ان کے ہر الٰہی اور انسانی حق سے محروم کرنا بھی ایک سنگین جرم ہے، جس کی سخت مذمت کی جانی چاہیے۔
تعلیم کا حق مشروط نہیں ہونا چاہیے
کلاس میں داخلے سے محرومی کے اثرات لباس کے اختلاف سے کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ تعلیمی پسماندگی، ذہنی دباؤ اور خود کو معاشرے سے الگ تھلگ محسوس کرنا اس طالبہ کے مستقبل کو متاثر کرسکتا ہے جو علم حاصل کرنے کے لیے اسکول آئی ہے۔
حجاب کرنے والی طالبات کے حقِ تعلیم کا دفاع کرنے کا مطلب دوسروں کو حجاب قبول کرنے پر مجبور کرنا نہیں، بلکہ اس اصول کا دفاع کرنا ہے کہ تعلیم تک رسائی کو بلاجواز مذہبی عقیدے سے دست بردار ہونے کی شرط سے وابستہ نہیں کیا جانا چاہیے۔
اگر دینی نقطۂ نظر سے حجاب معاشرے میں عفت و پاک دامنی کے ساتھ شرکت کا ایک ذریعہ ہے تو تعلیمی ضوابط کے نفاذ میں اسے معاشرے سے اخراج کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ لباس کے اختلافات کا مناسب حل ایسے جامع اور متناسب ضوابط مرتب کرنا ہے جو تمام طالبات کو تعلیم حاصل کرنے کا موقع دیں، نہ کہ ان کے لیے کلاس کے دروازے بند کردیں۔
مصنفہ: فاطمہ پورعباس — ثقافتی اور سوشل میڈیا کارکن
آپ کا تبصرہ