اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، انصاراللہ یمن کے سیاسی دفتر کے رکن محمد الفرح نے کہا کہ سلامتی کونسل ایک طرف سعودی عرب کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتی ہے، جبکہ دوسری جانب یمنی عوام کے خلاف خونریزی اور جرائم پر واضح طور پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق،اس رویے نے ادارے کی حقیقت اور دوہرے معیار کو آشکار کر دیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل انسانی حقوق کا راگ الاپتی ہے، لیکن یمن میں خواتین اور بچوں کے ہولناک قتلِ عام اور غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
محمد الفرح نے سوال اٹھایا کہ جس قوم کے گھر اور بنیادی ڈھانچے ملبے کا ڈھیر بنا دیے گئے ہوں اور جو محاصرے میں زندگی گزار رہی ہو، کیا اس سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے جائز دفاع کے بجائے جارح قوتوں کے میزائلوں کا استقبال کرے؟
آپ کا تبصرہ