بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مشہور امریکی تجزیہ کار اور فاکس نیوز کے سابق میزبان "ٹکر کارلسن" نے کہا: "ٹرمپ اگر انسانی شرافت سے بہرہ مند ہوتا، تو وہ اسی پہلے ہی دن ہی ایرانی پرائمری اسکول کی بچیوں کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتا اور معافی مانگتا! انھوں نے ایک ویڈیو انٹرویو میں کہا:
دوسری اور آخری قسط:
جواب یوں ہونا چاہئے تھا:
"یہ المناک ہے، مجھے امید ہے کہ ہم نے یہ حملہ نہ کیا ہو۔ اگر ہم نے یہ کام کیا ہو، تو ہمیں اس کے جواب میں، معذرت خواہی کرنی چاہئے، کیونکہ بچیاں، کبھی بھی، کسی بھی صورت حال میں، خواہ جنگ کی صورت میں، خواہ امن کی صورت میں، جائز ہدف نہیں ہیں؛ بچوں کو کسی صورت میں بھی قتل نہیں کیا جا سکتا۔
ہم صرف کہنا چاہتے ہیں کہ ہمیں اس واقعے کی وجہ سے، افسوس ہے۔ ہم ایران کے بچوں اور دنیا کے کسی بھی ملک کے بچوں کے ساتھ حالت جنگ میں نہیں ہیں۔
اور ہمیں امید ہے وہ [ایرانی] بھی، کبھی بھی، ہمارے بچوں کے خلاف اعلان جنگ نہ کریں، کیونکہ یہ بہت ہولناک اور المناک ہے۔ یہ بدترین مسئلہ ہوگا۔"!
یہ بات کہنا اتنا سخت تو نہیں ہے! اور ہر معمولی شخص بھی یہی کچھ کہتا ہے، کیونکہ اس ماجرا کا فطری نتیجہ ہے، کیا ایسا نہیں ہے؟ لیکن اس [ٹرمپ] نے یہ نہیں کہا۔
اس کے بدلے اس نے کہا تو کیا ہے؟! فورجی طور پر بولا کہ "انہوں نے بھی ہمارے ساتھ بدسلوکی کی ہے، اور تمہیں اس کےبارے میں پوچھنا چاہئے۔ اور عراق میں جنگ کے دوران۔۔۔"، یہ مسئلہ بالکل منطقی اور معقول نہیں ہے؛ البتہ عراق کی جنگ میں، ـ وہی جنگ جو ایک سابق امریکی صدر نے اسرائیل کے حق میں، شروع کیا تھا، ہمارے پاس اُس جنگ میں داخل ہونے کے لئے کوئی جواز نہیں تھا، عراق کا 11 ستمبر سے کوئی تعلق نہیں تھا، لیکن چھوڑیئے! [ٹرمپ کے بقول] "اس جنگ کے دوران ایران کے حمایت یافتہ قوت نے امریکی فوجیوں کو ہلاک کر ڈالا؛" اور یہ درست ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ قصورار کون تھا؟ گناہ اسی امریکی صدر کا تھا، جنہوں نے انہیں ایک میدان جنگ میں بھیج دیا، تاکہ اسرائیل کے حق میں، لڑیں!
چنانچہ اس شخص کو ـ جس کا نام جارج ڈبلیو بش ہے ـ اس کام کی بنا پر سزا ملنی چاہئے؛ وہ تمام لوگ، اس شخص کے فیصلے کی وجہ سے، ہلاک ہو گئے!
لیکن چلئے! ٹرمپ نے ـ البتہ ـ پانچ سال قبل ـ جب قدامت پسندوں کی بے انتہا جنگوں کے خلاف تھا، خود بھی یہی باتیں کرتا تھا۔
لیکن اب جبکہ وہ ان ہی جنگوں کی قیادت سنبھالے ہوئے ہے، آُن باتوں کو مزید نہیں دہراتا!
لیکن دلچسپ امر یہ ہے کہ ہم دیکھ لیں کہ وہ کن بہانوں سے ایک بات کا دفاع کرتا ہے، جو بنیادی طور پر قابل دفاع نہیں ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ