اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی اخبار الاخبار نے لقمان عبداللہ کے قلم سے شائع ہونے والے تجزیے میں لکھا ہے کہ یمن میں سعودی عرب کی انٹیلی جنس ناکامی 2015 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس کی سب سے نمایاں ناکامیوں میں سے ایک ہے۔ اس ناکامی سے مراد صرف میدانِ جنگ میں بار بار ہونے والی غلطیاں یا انصار اللہ کی گمراہ کن کارروائیوں اور چالوں کا شکار ہونا نہیں، کیونکہ امریکہ بھی یمن پر اپنے فضائی حملوں کے دوران اس نوعیت کے نقصانات سے محفوظ نہیں رہا۔
اخبار نے مزید لکھا کہ جنگ کو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود سعودی عرب یمن کی صورت حال کو درست طور پر سمجھنے، میدانِ جنگ میں ہونے والی تبدیلیوں اور طاقت کے حقیقی توازن کا اندازہ لگانے کے لیے مؤثر نظام قائم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ بعض مبصرین اس کمزوری کی وجہ یمن کے بارے میں سعودی حکمرانوں کے برتری جتانے والے رویے کو قرار دیتے ہیں، جس کے باعث انہوں نے یمن کی صلاحیتوں اور وسائل کو کم تر سمجھا۔
تجزیہ نگار کے مطابق، حالیہ لڑائی میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ سعودی عرب اچانک حیران رہ گیا، کیونکہ صنعا کی قیادت نے جھڑپوں سے پہلے کے ہفتوں میں کئی مرتبہ کھلے عام بیانات اور ثالثوں کے ذریعے خبردار کیا تھا کہ سعودی عرب کی جانب سے ’’نقشۂ راہ‘‘ پر عمل درآمد سے مسلسل انکار یمن کو طاقت کے استعمال کے ذریعے اسے نافذ کرنے کی طرف لے جائے گا۔
فوجی صلاحیتوں اور تیاریوں کے لحاظ سے بھی جنگ سے پہلے کے مہینوں میں یمن میں بڑے پیمانے پر بھرتی اور تربیت کی سرگرمیاں جاری رہیں۔ اس دوران ملک بھر میں فوجی مشقیں کی گئیں، جن میں مستقبل کی لڑائیوں میں استعمال ہونے والی حکمت عملیوں اور انہی ہتھیاروں کی نقل تیار کی گئی جو موجودہ جھڑپوں میں دیکھے گئے۔
اسی سلسلے میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے لکھا کہ طارق صالح نے ساحلی علاقوں کے ہاتھ سے نکلنے سے کئی ہفتے پہلے ریاض کو اپنی فورسز کے ٹھکانوں کے لیے خطرہ بننے والی فوجی نقل و حرکت سے خبردار کیا تھا۔ انہوں نے پیش گوئی کی تھی کہ انصار اللہ آبنائے باب المندب کی طرف پیش قدمی کرے گی۔ طارق صالح نے حملہ آور فورسز کے رابطوں کو روکنے کے لیے سعودی عرب سے فضائی اور تکنیکی مدد بھی طلب کی تھی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی حکام نے بھی سعودی عرب کو اسی نوعیت کی معلومات فراہم کی تھیں۔
سعودی عرب کی انٹیلی جنس کی کمزوری صرف فوجی سازوسامان کی مقدار کا اندازہ لگانے میں ناکامی تک محدود نہیں، بلکہ یمن کی دفاعی صنعت میں ہونے والی ترقی کے حجم اور معیار کو سمجھنے میں ناکامی بھی اس کا حصہ ہے۔ اگرچہ سعودی عرب کے اتحادیوں نے میزائلوں، ڈرونز اور انٹیلی جنس معلومات جمع کرنے کی ٹیکنالوجی کی تیاری میں استعمال ہونے والے پرزوں کی کئی کھیپیں روک کر ضبط کیں، لیکن ریاض نے اس معاملے پر ضروری توجہ نہیں دی۔
اس کے علاوہ، سعودی عرب نے جنوب میں سلفی گروہوں، مثلاً ’’العمالقہ‘‘، کو اپنے ساتھ ملانے اور ’’درع الوطن‘‘ کے نام سے دوسرے گروہ تشکیل دینے میں کامیابی حاصل کی، لیکن بالآخر وہ اتحادوں کے اس نیٹ ورک کو برقرار نہ رکھ سکا جسے متحدہ عرب امارات نے گزشتہ برسوں میں قائم کیا تھا۔
تجزیے کے مطابق، سعودی عرب کی حکمت عملی کی سب سے بڑی خامی امریکہ کی حفاظتی چھتری پر مسلسل انحصار ہے، حالانکہ بار بار کے تجربات اس حمایت کی حدود واضح کر چکے ہیں۔
موجودہ لڑائی کے دوران واشنگٹن کی جانب سے سعودی عرب کی مدد نہ کرنا قابلِ پیش گوئی تھا، کیونکہ امریکہ تہران کے ساتھ جنگ میں مصروف ہے اور کسی دوسری جنگ میں شامل ہونے کا خطرہ مول لینے کی پوزیشن میں نہیں۔ اسی طرح جنگ کے پھیلاؤ اور اس کے اخراجات کے خدشات کے باعث یورپی ممالک بھی اس معاملے میں محتاط ہیں۔
اس کے باوجود سعودی عرب اب تک امریکہ پر اپنے انحصار سے باہر نہیں نکل سکا، اگرچہ اس نے کچھ عرصہ پہلے اپنی تزویراتی شراکت داریوں کو متنوع بنانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔
آپ کا تبصرہ