اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ اقوام متحدہ کے نئے سربراہ کے عہدے کے لیے موجودہ تمام امیدواروں کی مخالفت کر رہی ہے اور نئے نام پیش کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
پولیٹیکو نے اندرونی بات چیت سے واقف دو افراد کے حوالے سے بتایا کہ امریکی حکومت اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے تمام موجودہ امیدواروں کے خلاف ہے، کیونکہ اس کا خیال ہے کہ ان میں سے کوئی بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے نظریات اور اس ادارے میں بنیادی تبدیلیاں لانے کی ان کی خواہش سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے پولیٹیکو کو بتایا کہ امیدواروں کی فہرست میں ایسی اصلاح پسند شخصیات موجود نہیں ہیں جنہیں امریکہ اس عہدے کے لیے موزوں سمجھتا ہو۔ ان کے بقول، بعض امیدوار تو پرانے اور روایتی اندازِ فکر سے تعلق رکھنے والے دکھائی دیتے ہیں۔
اقوام متحدہ اس وقت موجودہ سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے جانشین کے انتخاب کا عمل مکمل کر رہا ہے۔ گوتریس کی دوسری اور آخری پانچ سالہ مدت رواں سال 10 دی کو ختم ہو رہی ہے۔
چلی کی سابق صدر اور اس ملک کی پہلی خاتون صدر مشیل باشیلے کے دست بردار ہونے سے پہلے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے آٹھ امیدوار میدان میں تھے۔ باشیلے نے 29 شہریور کو اپنی نامزدگی واپس لے لی، جس کے بعد رافائل گروسی اور چھ دیگر امیدواروں کے درمیان مقابلہ جاری ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے تمام امیدواروں کی مخالفت کی خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی حکومت کی طرف سے اقوام متحدہ اور اس سے وابستہ اداروں پر دباؤ جاری ہے۔ یہ دباؤ ان اداروں کے لیے مالی امداد میں کٹوتی اور بعض اداروں سے امریکہ کی علیحدگی کی صورت میں بھی سامنے آیا ہے۔
پولیٹیکو نے اس حوالے سے لکھا کہ 81 سالہ اقوام متحدہ کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اپنے کردار اور ذمہ داریوں کے حوالے سے چیلنجز کا سامنا ہے۔ امریکی حکومت نے اقوام متحدہ کے لیے اپنے مالی حصے میں نمایاں کمی کی ہے، عالمی ادارۂ صحت سمیت اس سے وابستہ کئی اداروں سے علیحدگی اختیار کی ہے اور غزہ کی پٹی کے مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے ’’امن کونسل‘‘ کے نام سے ایک الگ ادارہ بھی قائم کیا ہے۔
امریکہ کو سلامتی کونسل کے دیگر مستقل ارکان کی طرح اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے انتخاب کے معاملے میں بھی ویٹو کا حق حاصل ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے عہدے کے لیے موجودہ سات امیدواروں میں زیادہ تر سفارت کار شامل ہیں۔ ان میں کوسٹا ریکا کی سابق نائب صدر ربیکا گرینسپین رائے عامہ کے جائزوں میں سب سے آگے رہی ہیں۔
امریکی کانگریس کے ایک معاون نے پولیٹیکو کو بتایا کہ اگر کوسٹا ریکا سے تعلق رکھنے والی ربیکا گرینسپین منتخب ہو جاتی ہیں تو ریپبلکن ارکان میں سے کسی کو بھی اقوام متحدہ کے معمول کے بجٹ کی مالی معاونت جاری رکھنے پر آمادہ کرنا مشکل ہوگا۔
آپ کا تبصرہ