بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ٹیفلون (Teflon) ٹرمپ چاہے کتنی ہی کوشش کرے کہ اس پر کوئی الزام نہ لگے لیکن، اب یہ حقیقت بالکل عیاں ہو چکی ہے کہ امریکہ نے ایران کے سامنے ذلت آمیز شکست کھائی ہے۔ اس کا ایران کو "بلا شرط ہتھیار ڈالنے" پر مجبور کرنے کا وعدہ اتنا ہی کھوکھلا ہے جتنے کہ اس کے انتخابی وعدے کھوکھلے نکلے: "کبھی جنگ شروع نہ کرنا" اور "امن و آشتی کا صدر بننا"۔ ٹرمپ جو فتح کا دعویٰ کرنے کا راستہ ڈھونڈنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، محض امریکہ کو فاتح قرار دے رہا ہے؛ جو کھلا جھوٹ ہے۔ ٹرمپ اپنے جھوٹ کے بارے میں عالمی رضامندی حاصل کرنے میں اس قدر بے بس ہو گیا ہے کہ اس نے اپنے حملوں کا رخ ان عالمی رہنماؤں کی طرف موڑ دیا ہے جو اس کے جنون کی حمایت نہیں کرتے؛ جن میں اس کے اپنے ہی ملک میں ماگا کے کچھ وفادار حامی بھی شامل ہیں۔
ٹرمپ نے ایرانی تہذیب کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی دھمکی کے بعد، پوپ لیو چہاردہم کو "ہارا ہؤا" شخص قرار دیا اور یہاں تک دعویٰ کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ مسیحؑ ایک بار پھر اس کی ذات میں مجسم ہوئے ہیں۔ کیا وہمی ڈونلڈ کے شرمناک اعمال کی کوئی انتہا بھی ہے؟
اس سے بھی بدتر، اس کے خوشامدی ماتحت ہیں جو اس کی طاقت کی ہوسِ کو ہوا دیتے ہیں اور اس کے آمرانہ انداز کی نقل اتارتے ہیں۔ نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان میں ایرانی اعلیٰ حکام سے 21 گھنٹے بات چیت کے بعد، "امریکی مطالبات قبول کرنے میں" ایران کی "شکست" کی مذمت کی۔ وینس نے ایسے انداز سے بات کی جیسا کہ وہ کوئی جائیداد کا سودا طے کر رہا ہو، بولا: "میں نے اپنی "بہترین اور آخری تجویز" دے دی ہے۔"
جے ڈی وینس مذاکرات کرنے اسلام آباد نہیں گیا تھا، بلکہ ہتھیار ڈالنے کی شرائط مسلط کرنے گیا تھا۔ ٹرمپ اور وینس کے لئے، حقیقی مذاکرات بنیادی طور پر خارج از امکان ہیں۔ وہ درحقیقت "اسرائیل کی شرائط و مفادات کی بنیاد پر" فوری امن معاہدے کے خواہاں ہوتے ہیں اور ان کے خیال میں مذاکرات کا واضح مطلب یہی ہے۔
ایران نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فریق اس کا اعتماد نہیں جیت سکا ہے؛ اور ایران حق بجانب ہے۔
دو مواقع پر، اختلافات کے پرامن حل کے لیے گفتگو کے دوران، امریکہ اور "اسرائیل" نے مذاکرات کے طے شدہ اجلاسوں کے درمیان اچانک حملے کئے، ملک کی قیادت کو قتل کیا اور ہسپتالوں، اسکولوں اور شہریوں کی رہائشی عمارتوں کو بڑے پیمانے پر تباہ کر دیا۔ چنانچہ ایرانی 'جائز وجوہات کی بنا پر' امریکہ کے وعدہ خلافی سے ہوشیار ہیں۔
سنہ 2015ع میں، اوباما انتظامیہ کے دوران، امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری معاہدے ـ جامع مشترکہ اقدام منصوبہ (JCPOA) ـ کی تدوین پر سیکڑوں گھنٹے صرف ہوئے۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت کے دوران، کانگریس سے مشورہ کئے بغیر، یک طرفہ طور پر اسے پھاڑ دیا اور ایران کے خلاف پابندیاں بحال کر دیں؛ وہ پابندیاں جن کی منسوخی ایران کا بنیادی مطالبہ ہے۔ سنہ 2023ع میں، صدر جو بائیڈن نے ایران کے اربوں ڈالر کے اثاثے آزاد کرنے پر اتفاق کیا؛ لیکن امریکہ اب بھی وہ اثاثے اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر مصنف: جارج کاتسیافیکاس؛ یونانی نژاد امریکی مورخ، سماجی مفکر اور مصنف۔
ماخذ: المیادین انگریزی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1. لفظ 'ٹیفلون' (Teflon) ایسے شخص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو کسی بھی قسم کی تنقید کو مسترد کرنے اور غلط کام کرنے کے باوجود اچھی ساکھ برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ