4 اکتوبر 2026 - 10:39
یمن کی نئی جنگی حکمت عملی، صنعا نے ’دارالحکومت کے بدلے دارالحکومت‘ کا اعلان کردیا

لبنانی علاقائی امور کے ماہر خلیل نصراللہ نے کہا ہے کہ یمن نے محاصرے کے خاتمے کی جنگ کے تناظر میں اپنی فوجی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے حساس اہداف اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے  مطابق، خلیل نصراللہ نے کہا کہ صنعا نےدارالحکومت کے بدلے دارالحکومت کی مساوات کو مستحکم کرتے ہوئے اپنی کارروائیوں کا دائرہ سعودی عرب میں تیل کی تنصیبات اور دیگر حساس اہداف تک بڑھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال 2022 سے پہلے کے حالات سے واضح طور پر مختلف ہے۔ اس وقت سعودی عرب کی گہرائی میں بڑے حملوں کے درمیان نسبتاً طویل وقفے ہوتے تھے، جبکہ موجودہ محاذ پر کارروائیاں روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں، جو یمنی فورسز کی وسیع تیاریوں اور عسکری استعداد کی نشاندہی کرتی ہیں۔

خلیل نصراللہ کے مطابق، یمنی فورسز نے 2022 کی جنگ بندی سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اس عرصے میں اپنی فوجی تنصیبات اور صلاحیتوں کو مکمل کیا۔ ان کے بقول، یہ تیاری ایسے وقت میں ہوئی جب یمن ایک وسیع علاقائی محاذ میں بھی سرگرم رہا، جس میں غزہ کی حمایت کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ براہِ راست محاذ آرائی بھی شامل تھی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha