اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کی مجلس کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف نے آج اتوار 12 مہر کو مجلس کے کھلے اجلاس سے قبل خطاب کرتے ہوئے پولیس ہفتے کے آغاز پر پولیس کمان کے بہادر اور خدمت گزار اہلکاروں کو مبارک باد پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اس پیش پیش، ماہر، قربانی دینے والے اور عوامی ادارے میں کئی برس تک خدمت کرنے پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انہیں اس مقدس محاذ پر خدمت کا اعزاز حاصل تھا تو انقلاب کے شہید رہبر نے ان سے کہا تھا کہ پولیس سورج کی طرح ہونی چاہیے جو طلوع ہونے کے بعد سب پر یکساں روشنی ڈالتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سورج یہ نہیں دیکھتا کہ گزری ہوئی رات میں کس نے عبادت کی اور کس نے گناہ کیا۔ سلامتی میں انصاف کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے کے ہر فرد کے لیے بلا کسی امتیاز کے امن، سکون اور خدمت کا سایہ فراہم کیا جائے۔ اسی سلسلے میں مجلس اسلامی پولیس کی مجموعی صلاحیت مضبوط بنانے، جدید ٹیکنالوجی سے لیس کرنے اور پولیس و دیگر مسلح افواج کے اہلکاروں کے معاشی حالات کو بنیادی طور پر بہتر بنانے کو اپنی قطعی ترجیحات میں شامل سمجھتی ہے۔
مجلس کے اسپیکر نے مزید کہا کہ وہ ایشین گیمز ناگویا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے کھیلوں کے دستے ’’میناب کے فرشتے‘‘ کی شاندار کارکردگی اور 52 مختلف تمغے حاصل کرنے پر بھی دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خصوصاً ایران کی باہمت اور باوقار لڑکیوں کا تین طلائی تمغے جیت کر تاریخی ریکارڈ قائم کرنا ایرانی لڑکیوں کی صلاحیت اور عزم کا واضح ثبوت ہے۔ یہ اصالت اور کامیابی کی ایک مثال ہے جس نے دنیا کے مشکل ترین میدانوں میں شاندار کارکردگی دکھائی اور دشمن کے ذرائع ابلاغ کی جانب سے پیش کیے جانے والے جھوٹے بیانیوں اور تصاویر کو عملی میدان میں غلط ثابت کر دیا۔ انہوں نے ان تمام باہمت نوجوانوں، کوچنگ اسٹاف اور ان کے قربانیاں دینے والے خاندانوں کو خراج تحسین پیش کیا اور ایران کے قابل فخر نام کی مزید سربلندی کی خواہش ظاہر کی۔
انہوں نے کہا کہ ہم سات اکتوبر کے تاریخی واقعے کی برسی کے قریب پہنچ رہے ہیں، جو خطے کی تاریخ میں ایک بنیادی موڑ تھا اور جس نے خطے کی تاریخ کو اپنے سے پہلے اور بعد کے دو ادوار میں تقسیم کر دیا۔ سات اکتوبر کو فلسطینی مجاہدین نے فیصلہ کیا کہ وہ عزت اور وقار کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور صیہونیوں کے مصنوعی اور کھوکھلے تحفظ کے تصور کو ان کے لیے مستقل خوف میں بدل دیں گے۔
ڈاکٹر قالیباف نے مزید کہا کہ شہید امام نے اسی واقعے کے ابتدائی دنوں میں فرمایا تھا کہ سات اکتوبر کو صیہونی حکومت کی شکست ایسی شکست ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ آج وقت گزرنے کے ساتھ اس درست تزویراتی تجزیے کے مختلف پہلو باشعور تجزیہ کاروں کے لیے واضح ہو گئے ہیں۔ ناقابل تلافی شکست کا مطلب یہ ہے کہ صیہونی حکومت، جو کئی دہائیوں تک خود کو مظلوم فریق کے طور پر پیش کرتی رہی، آج دنیا کی رائے عامہ کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے۔ اس صورتحال نے سامراجی حکومتوں کے لیے اس ریاست کی بڑے پیمانے پر سیاسی اور مالی حمایت جاری رکھنا مشکل بنا دیا ہے اور اس ریاست کے مستقبل کے استحکام کو بھی غیر واضح کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ صیہونی حکومت کی قومی سلامتی کی حکمت عملی کے بنیادی ستون بھی منہدم ہو چکے ہیں اور کسی کارروائی یا بجٹ کے ذریعے انہیں دوبارہ تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ حکومت جو برسوں تک مکمل دفاعی صلاحیت اور ناقابل تسخیر انٹیلی جنس طاقت کا دعویٰ کرتی رہی، آج ایک طویل جنگ کے دلدل میں پھنس چکی ہے۔ اس کی شناخت اور سلامتی کا ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے اور بمباری و جرائم کے ذریعے تباہ شدہ بنیادوں کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ صیہونی حکومت امریکہ کی بے مثال حمایت کے باوجود اس شکست کا ازالہ نہیں کر سکی اور مکمل تباہی کی جانب بڑھ رہی ہے۔
امریکہ نے میڈیا میں اپنے بیانات کے برعکس ثالثوں کے ذریعے تجاویز پیش کی ہیں
مجلس کے اسپیکر نے کہا کہ صرف صیہونی ہی بے بسی اور مشکلات کا شکار نہیں بلکہ امریکہ بھی ایرانی قوم کی استقامت اور مزاحمت کے سامنے بے بس ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ذرائع ابلاغ میں کچھ اور بات کرتا ہے لیکن حال ہی میں ثالثوں کے ذریعے تجاویز پیش کی ہیں۔ تاہم اسے سمجھ لینا چاہیے کہ وقت کو ضائع کرکے معاملات کو طول دینے اور یک طرفہ مطالبات مسلط کرنے کا دور گزر چکا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کا مؤقف بالکل واضح اور قطعی ہے اور اسلام آباد مفاہمت نامے کے تحت ہماری سات شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ ایران کی اس واضح اور دوٹوک پوزیشن سے بخوبی واقف ہیں اور اسے پوری طرح سمجھ چکے ہیں، لیکن اپنے ملک کے عوام اور دنیا کی رائے عامہ کو دھوکا دینے کے لیے انہوں نے معاشی دباؤ اور فوجی و سکیورٹی اقدامات کے ساتھ اپنی بیان بازی اور فوجی دھمکیوں میں بھی اضافہ کر دیا ہے، یہاں تک کہ بعض اوقات ایک ہی دن میں کئی متضاد بیانات سامنے آتے ہیں۔
قالیباف نے کہا کہ یہ نام نہاد جنگِ ادراک کی خصوصیت ہے، جس میں دشمن ایک دن مذاکرات اور معاہدے کی خواہش ظاہر کرتا ہے، دوسرے دن جنگ اور تباہی کی دھمکی دیتا ہے اور اگلے دن ثالثی اور مفاہمت کی بات کرتا ہے۔ ان سوچے سمجھے متضاد بیانات کا مقصد ایرانی معاشرے میں ذہنی الجھن پیدا کرنا، حکام کے فیصلہ سازی کے عمل میں عدم استحکام پیدا کرنا اور ہماری تزویراتی سوچ کو متاثر کرنا ہے، لیکن یہ صرف ایک خام خیالی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایسا ملک نہیں جو اپنی مجموعی پالیسی اور قومی سلامتی کو امریکی حکام کی ٹوئٹس یا روزانہ کے انٹرویوز کے مطابق ترتیب دے۔ ہم دشمن کے حقیقی رویے اور عملی اقدامات کو اپنی حکمت عملی کی بنیاد بناتے ہیں، نہ کہ ذرائع ابلاغ میں ہونے والی بیان بازی اور جھوٹے دوغلے پن کو۔
مجلس کے اسپیکر نے مزید کہا کہ ہم طاقت اور عقل پر مبنی حکمت عملی کے تحت نہ جذبات میں آتے ہیں اور نہ خوف زدہ ہوتے ہیں۔ ہم جنگ بھی کرتے ہیں اور مذاکرات بھی۔ ہم پوری قوت کے ساتھ فوجی میدان میں موجود ہیں اور دشمن کو نئی حیرتوں سے دوچار کریں گے، جبکہ اپنی فوجی میدان میں برتری مستحکم کرنے اور ایرانی قوم کے حقوق منوانے کے لیے سفارت کاری کے ذرائع سے بھی استفادہ کریں گے۔
قالیباف نے کہا کہ میں کئی بار کہہ چکا ہوں کہ مذاکرات کی میز پر وہی شخص کامیاب ہوتا ہے جس نے خود کو جنگ کے لیے تیار کر رکھا ہو۔ آج اللہ کے فضل سے اسلامی جمہوریہ ایران اور مزاحمتی محاذ پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہیں، ملک میدان میں مکمل طاقت اور قومی اتحاد کی اعلیٰ ترین سطح پر ہے اور اسلامی انقلاب کے رہبر معظم کی ہدایات کے تحت ہم ہرگز دشمنوں کو اپنے عزیز ایران کے بارے میں ان کے وہم و گمان کو حقیقت میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
آپ کا تبصرہ