اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں مسلم تنظیموں اور کارکنوں نے پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کیا اور مسلمانوں کے خلاف روزمرہ کی اسلام دشمنی اور امتیازی سلوک کے معاملے پر زیادہ توجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ایک سماجی قافلے کی صورت میں پارلیمنٹ کے ارکان کو ’’اسلام دشمنی کے خلاف منشور‘‘ پیش کیا۔
مظاہرین: ہالینڈ کے معاشرے میں اسلام دشمنی معمول بن چکی ہے
شرکت کرنے والی تنظیموں نے اپنے منشور میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، اسلام دشمنی اور مسلمانوں سے نفرت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض اداروں کی پالیسیاں، سیاسی مؤقف اور طرز عمل اس صورتحال کو مزید تقویت دے رہے ہیں اور اسے جائز قرار دینے کا باعث بن رہے ہیں۔ منشور میں کہا گیا کہ اس مسئلے سے چشم پوشی دراصل عدم مساوات اور تذلیل کو قبول کرنے کے مترادف ہے۔
مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک سے متعلق تحقیق کا حوالہ
ان گروہوں نے اپنے دعووں کے لیے 2025 میں ہونے والی ’’مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک سے متعلق قومی تحقیق‘‘ کا حوالہ دیا۔ Regioplan اور Ercomer کی تیار کردہ رپورٹ کے مطابق، ہالینڈ کے معاشرے کے بعض حصوں میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک جڑ پکڑ چکا ہے، جس کے باعث اس ملک کے بعض مسلمان مزید اپنے اندر سمٹنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
اس احتجاج کے دوران شرکا نے نفرت اور اسلام دشمنی کے خلاف نعرے لگائے۔ بعض مسلم کارکنوں نے ہالینڈ کے سیاست دانوں کے طرز عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو مختلف معاملات، خصوصاً سماجی مسائل میں، الزامات اور تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
احتجاج کے موقع پر حجاب پہنے ایک مسلمان خاتون اور ایک بزرگ ڈچ شہری کے درمیان بھی گفتگو ہوئی۔ بزرگ شہری نے تارکین وطن اور مسلمانوں کے لیے ہالینڈ میں موجود ’’ثقافت‘‘ کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ مسلمان خاتون نے جواب دیا کہ ہالینڈ کی ثقافت کیا ہے، اس کا تعین صرف ایک گروہ نہیں کر سکتا اور مسلمان بھی اس ملک کے معاشرے کا حصہ ہیں۔
ایک مسلم کارکن نے احتجاج میں کم تعداد میں لوگوں کی شرکت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہالینڈ کے بعض مسلمانوں نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ وہ دوسرے درجے کے شہری ہیں۔ ایک اور شریک نے کہا کہ مسلمانوں کو ایسی صورتحال کے مقابلے میں خاموش نہیں رہنا چاہیے بلکہ حالات کو تبدیل کرنے کے لیے انہیں بھی زیادہ فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
پارلیمانی رکن کی مسلمانوں کے احتجاج کی حمایت
احتجاج کے اختتام پر ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں پرو پارٹی کے رکن میکال تسگای مظاہرین سے منشور وصول کرنے کے لیے موقع پر پہنچے۔ انہوں نے مظاہرین کے مطالبات سننے کے بعد کہا کہ ان کی جماعت مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کے مسئلے کو سیاسی ایجنڈے میں شامل کرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام شہریوں کو معاشرے سے وابستگی کا احساس ہونا چاہیے اور انہیں مساوی مواقع حاصل ہونے چاہئیں۔
تسگای نے حالیہ برسوں میں اسلام دشمنی اور مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک میں نمایاں اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کے مقابلے کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت صرف اکثریت قائم کرنے کا نام نہیں بلکہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے، اسی لیے وہ مسلمانوں کے احتجاج اور ان کے منشور کی حمایت کرتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ