4 اکتوبر 2026 - 15:48
اقوام متحدہ: مشرقی افغانستان میں جنگی باقیات سے 64 شہری متاثر

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے کہا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک مشرقی افغانستان میں جنگی دھماکہ خیز مواد اور پھٹنے سے رہ جانے والے اسلحے سے متعلق 64 واقعات پیش آئے، جن میں 64 شہری جاں بحق یا زخمی ہوئے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے اپنی روزانہ کی پریس بریفنگ میں کہا کہ افغانستان اب بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں پھٹنے سے رہ جانے والے اسلحے کے باعث سب سے زیادہ جانی نقصان ہوتا ہے۔

دوجارک نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک مشرقی افغانستان میں جنگی دھماکہ خیز مواد اور پھٹنے سے رہ جانے والے اسلحے سے متعلق 64 واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں 64 شہری جاں بحق یا زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کئی دہائیوں سے جاری لڑائیوں کے دوران باقی رہ جانے والا یہ جنگی مواد عام شہریوں، خصوصاً بچوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان نے کہا کہ ان میں سے بعض مواد ظاہری طور پر کھلونوں سے مشابہ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے بچے زیادہ خطرے میں رہتے ہیں اور اکثر ان واقعات کا شکار بنتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار دھماکہ خیز مواد کے خطرات سے آگاہی، آلودہ علاقوں کی صفائی اور متاثرہ آبادیوں کی مدد کے لیے کام کر رہے ہیں، تاہم شدید مالی کمی کے باعث ان پروگراموں کی سرگرمیاں محدود ہو گئی ہیں۔

یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پھٹنے سے رہ جانے والے اسلحے کے دھماکے افغانستان میں شہریوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں اور لاکھوں افراد ایسے علاقوں کے قریب رہتے ہیں جہاں یہ خطرناک مواد موجود ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha