اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے ایک بار پھر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے بجائے یورپ کو اس طرح کی کارروائی کرنی چاہیے تھی۔
روٹے نے یورونیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا: ’’میں واضح طور پر کہوں گا کہ یورپ کے پاس ایران کی جوہری صلاحیت کو ختم کرنے کی طاقت نہیں تھی۔ ہم یہ نہیں کر سکتے تھے، ہمارے پاس اس کی صلاحیت نہیں تھی۔ ہم 10 سال میں یہ صلاحیت حاصل کر سکتے ہیں اور ہمیں یہ کام کرنا چاہیے۔‘‘
نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے مزید دعویٰ کیا: ’’یہ کام امریکیوں کو نہیں کرنا چاہیے، ہمیں یہ کرنا چاہیے۔ اسی طرح بحیرہ احمر میں حوثیوں (انصار اللہ) کی صورتحال سے بھی امریکیوں کے بجائے ہمیں نمٹنا چاہیے۔‘‘
مارک روٹے نے مزید کہا: ’’یقیناً اس کے ہمیشہ کچھ نتائج ہوتے ہیں، لیکن یہ نتائج اس بات کو تسلیم کرنے سے شروع ہوتے ہیں کہ امریکیوں کی کارروائی درست تھی، اور میں ان لوگوں میں شامل ہوں جو سمجھتے ہیں کہ ایران کے خلاف امریکا کی کارروائی بالکل ضروری تھی۔‘‘
روٹے ایک ایسے وقت میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا دفاع کر رہے ہیں جب مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا پر ایران میں متعدد جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
اس سے قبل مارک روٹے نے جنگ میں یورپی ممالک کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت میں یورپی اڈوں سے تقریباً 5 ہزار پروازیں کی گئی تھیں، جبکہ یورپی ممالک نے ان کارروائیوں میں اپنے کردار سے انکار کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ