1 اکتوبر 2026 - 16:24
مسجد اقصیٰ کی حمایت میں 370 عرب و اسلامی شخصیات کی جمعہ کو یومِ غضب منانے کی اپیل

فلسطینی علما کی انجمن اور 370 عرب و اسلامی شخصیات نے مسجد اقصیٰ کے تحفظ اور اس کے خلاف مبینہ اسرائیلی اقدامات کی مذمت کے لیے جمعہ 2 اکتوبر کو یومِ غضب منانے کی اپیل کی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مسجد اقصیٰ کی شناخت تبدیل کرنے اور اسے مکمل طور پر یہودیانے کی کوششوں کے تناظر میں فلسطینی علما کی انجمن نے عرب اور مسلم اداروں، تنظیموں اور ممتاز شخصیات کے ساتھ مل کر یہ اپیل جاری کی ہے۔

یہ اعلان تقریباً 370 عرب و مسلم علما، دانشوروں، سیاسی جماعتوں اور مختلف اداروں کے نمائندوں کے ہنگامی اجلاس کے بعد سامنے آیا۔ اجلاس میں مسجد اقصیٰ کی صورتحال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے فلسطین کے مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے عوامی، علمی اور میڈیا سطح پر سرگرمیاں بڑھانے پر زور دیا گیا۔

فلسطینی علما کی انجمن نے عالم اسلام کے علما، خطبا، سیاسی جماعتوں، تنظیموں، نوجوانوں اور عام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مسجد اقصیٰ کی حمایت میں جمعہ کی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیں۔

اس اپیل میں شب بیداریوں، دھرنوں اور عوامی و میڈیا مہمات کے انعقاد کے ساتھ مساجد، عوامی مقامات، جامعات اور ذرائع ابلاغ میں مسجد اقصیٰ کے مسئلے کو نمایاں رکھنے اور جمعہ کے خطبات کو اس موضوع کے لیے مختص کرنے کی درخواست بھی شامل ہے۔

بین الاقوامی القدس فاؤنڈیشن نے القدس، مغربی کنارے اور 1948 کے مقبوضہ علاقوں میں مقیم فلسطینیوں سے مسجد اقصیٰ میں حاضری بڑھانے کی اپیل کی ہے۔ فاؤنڈیشن نے مسلم دنیا کے اداروں اور تنظیموں سے بھی نماز فجر، جمعہ کے خطبات، شب بیداریوں، دھرنوں اور مظاہروں سمیت مختلف پروگرام منعقد کرنے کا مطالبہ کیا۔

فاؤنڈیشن نے ایک الگ بیان میں جمعہ کو مسجد اقصیٰ سے اظہارِ یکجہتی کا دن قرار دینے اور عرب و مسلم رہنماؤں سے اپنے فرائض ادا کرنے کی اپیل کی۔ بیان میں مسجد اقصیٰ کی موجودہ حیثیت تبدیل کرنے کی کوششوں کا مقابلہ کرنے کے لیے عملی اقدامات پر زور دیا گیا۔

یہ اپیل ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رپورٹ کے مطابق یہودی تعطیلات کے دوران مسجد اقصیٰ پر اسرائیلی آبادکاروں کے دھاووں میں اضافہ ہوا ہے اور رواں سال کے آغاز سے اب تک ایسے افراد کی تعداد 40 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔

القدس گورنری کے اعداد و شمار کے مطابق، یہودی تہواروں کے دوران گزشتہ ہفتے مسجد اقصیٰ پر دھاووں اور وہاں داخل ہونے والے آبادکاروں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ 20 اور 21 ستمبر کو 1,678 آبادکار مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق، رواں سال کے آغاز سے اگست کے اختتام تک 40,661 آبادکار مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے، جبکہ سال کے آغاز سے ستمبر کے ابتدائی دنوں تک تقریباً 800 ایسے احکامات جاری کیے گئے جن کے ذریعے فلسطینی شہریوں کو القدس سے بے دخل کرنے یا مسجد اقصیٰ میں داخلے سے روکنے کی کارروائی کی گئی۔

بین الاقوامی القدس فاؤنڈیشن نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے خلاف بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باعث وہاں کی موجودہ صورت حال عملاً ختم ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے عوامی عزم اور مزاحمت پر مبنی مؤثر دفاعی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔

فاؤنڈیشن نے عرب و مسلم عوامی تحریکوں، علما، فکری رہنماؤں اور عام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ مسجد اقصیٰ اور القدس کے مسئلے کو مٹانے اور اس مقدس مقام کی شناخت تبدیل کرنے کی کوششوں کے مقابلے میں اپنا کردار ادا کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha