29 ستمبر 2026 - 19:04
امریکہ فوجی لحاظ سے بدترین حالات سے گذر رہا ہے!، امریکی جرنیل کا تلخ اعتراف + ویڈیو

امریکی نیشنل گارڈ کا قائم مقام نائب سربراہ: امریکہ اب فوجی لحاظ سے، کم از کم 11 ستمبر کے حملوں سے لے کر اب تک، اپنی بدترین حالت میں ہے۔ ہمیں اپنی جارحانہ اور دفاعی صلاحیتوں میں خاص طور پر میزائلوں کے میدان میں نمایاں کمی کا سامنا ہے۔ / ہمارے ذخائر پہلے کی کل مقدار کے ایک تہائی سے دو تہائی کے درمیان رہ گئے ہیں اور ان ذخائر کی جگہ بھرنے میں چند ہفتے یا چند مہینے نہیں بلکہ سالوں لگیں گے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی نیشنل گارڈ کے قائم مقام نائب سربراہ میجنر جنرل ریٹائرڈ رینڈی مینر (Randy Manner)  نے ایک ٹی وی پروگرام میں کہا: امریکہ اب فوجی لحاظ سے، کم از کم 11 ستمبر کے حملوں سے لے کر اب تک، اپنی بدترین حالت میں ہے۔ ہمیں اپنی جارحانہ اور دفاعی صلاحیتوں میں خاص طور پر میزائلوں کے میدان میں نمایاں کمی کا سامنا ہے۔ / ہمارے ذخائر پہلے کی کل مقدار کے ایک تہائی سے دو تہائی کے درمیان استعمال ہو چکے ہیں اور ان ذخائر کی جگہ بھرنے میں چند ہفتے یا چند مہینے نہیں بلکہ سالوں لگیں گے۔

ویڈیو کی تفصیل:

امریکی فوج ایک تہذیب کو محو و نابود کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی

یہاں امریکی صدر عملی طور پر ایک ملک کو جنگی جرائم کی دھمکیاں دیتا ہے۔ اس بات کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

آپ تصور کریں اگر کوئی بھی دوسرا امریکی صدر آج تک، اقوام متحدہ میں ان الفاظ میں، تقریر کرتا۔

اینکر (نے ٹرمپ کے کرتوتوں سے تپے ہوئے جرنیل کی بات کاٹ دی اور پوچھا):  فوجی صلاحیتوں پر کچھ زیادہ بات کرنے دیجئے۔۔۔ امریکی صدر امریکی فوج کی وسعت، صلاحیت اور طاقت کے بارے میں دوٹوک بات کیا کرتا ہے، اور میں سمجھتی ہوں کہ وہ سمجھتا ہے یہ باتیں اس لئے مؤثر ہیں کہ امریکہ اس طرح کی فوجی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن آپ کہتے ہیں کہ اس طرح کی صلاحیت وجود ہی نہیں رکھتی۔

جواب: امریکہ اس وقت عسکری لحاظ سے، کم از کم 11 ستمبر کے حملوں کے بعد، کمزورترین پوزیشن پر کھڑا ہے۔

ہم جارحانہ اور دفاعی صلاحیتوں، بالخصوص میزائلوں کے شعبے میں، شدید قلتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

آج پہلے کے مقابلے میں ہمارے تقریبا ایک تہائی یا دو تہائی، ذخائر کم ہو چکے ہیں، اور ان ذخائر کے متبادل کی فراہمی کے لئے چند ہفتے یا چند مہینے نہیں بلکہ کئی سال کا عرصہ درکار ہے۔

اگر آپ ایک بڑی تصویر کو مد نظر رکھیں، تم ہم امریکہ کا دفاع کر سکتے ہیں، اور شاید مشرق وسطی میں جنگ بھی جاری رکھ سکیں۔ لیکن شاید دوسرے محاذ ـ بطور مثال تائیوان کے محاذ [پر چین] کے مقابلے یا نیٹو کے دائرہ کار میں، کسی جنگ میں نہ اتر سکیں۔

اور بالکل اسی نقطے پر صورت حال بہت حساس ہو جاتی ہے۔

میرا خیال ہے کہ فوج کے جنرل اسٹاف کا سربراہ صدر کو پیچھے دھکیل رہا ہے اور کہتا ہے کہ ہمارے جنگ اہداف کو زیادہ واضح ہونا چاہئے اور معلوم ہونا چاہئے کہ ہماری حتمی مطلوبہ پوزیشن کیا ہے۔ کیونکہ ہم موجودہ پوزیشن کی بنیاد پر اس سطح پر گولہ بارود خرچ کرنے کے عمل کو جاری نہیں رکھ سکتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha