29 ستمبر 2026 - 09:26
2 | آٹھ سالہ جنگ سے پہلے ہماری پوزیشن کمزور تھی / ہم نے اپنی سرزمین کا کوئی حصہ الگ نہیں ہونے دیا، ایڈمرل سیاری

اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے چیف آف اسٹاف نے کہا: دفاع مقدس نے ایرانی سرزمین کا کوئی حصہ الگ نہیں ہونے دیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے چیف آف اسٹاف نے آج صبح (پیر 28 ستمبر کو) شہداء، جانبازوں (جنگ میں معذور ہونے والے افراد) نیز ایثارگروں (غازیوں) کے خاندانوں کی تعظیم کی تقریب میں، شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے کیا اور ان کے خاندانوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا: مجھے فخر ہے کہ آج اس باوقار تقریب میں شہداء، جانبازوں اور ایثارگروں کے معزز خاندانوں کی خدمت میں حاضر ہوں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے چیف آف اسٹاف، ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا:

دوسری قسط:

اس کے برعکس، اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج نے دو سال سے زیادہ مشقیں نہیں کی تھیں، اس کی فوجی طاقت تقریباً 50 فیصد کم ہو گئی تھی اور کچھ یونٹوں کی تعداد بھی کم ہو گئی تھی۔ کچھ کمانڈر موجود نہیں تھے، ضروری مشقیں نہیں ہوئی تھی اور اور فوجی تربیت نہیں ہو رہی تھی اور کچھ سازوسامان کی تیاری بھی کم ہو گئی تھی۔ دشمن کو اس صورتحال کے بارے میں معلومات تھیں اور اس نے اپنے اندازے اسی بنیاد پر لگائے تھے۔

دشمن نے سوچا کہ ان اندازوں کی بنیاد پر وہ اپنے اہداف حاصل کر سکتا ہے، لیکن وہ ایک بنیادی عنصر کو نہیں جانتا تھا؛ دشمن کو ایرانی عوام، ایرانی غیرت، ایرانیوں کی قربانی اور اس سرزمین کی خواتین اور مردوں کے جذبے کا اندازہ نہیں تھا۔

دشمن نے سوچا کہ ایران کی سرحدوں میں داخل ہونے پر، خاص طور پر عرب آبادی والے علاقوں میں، اس کا استقبال کیا جائے گا، لیکن ایسا نہیں ہؤا۔ عرب ایرانی ہیں، ترک ایرانی ہیں، ترکمن ایرانی ہیں اور فارس ایرانی ہیں، سب ایرانی ہیں اور ایران قوموں کا گلستان ہے۔

مردوں نے مزاحمت کی اور خواتیں بھی میدان میں آئیں۔ خوزستان کی بہادر خواتین اور ماؤں نے حماسہ تخلیق کیا۔ میں خود میدان میں موجود تھا اور اپنے مشاہدے کے مطابق کہہ رہا ہوں کہ ہم نے نے خواتین کو مشکل سے خرمشہر سے نکالا؛ وہ شہر چھوڑنے کو تیار نہیں تھیں اور وہاں رہ کر مزاحمت کرنا چاہتی تھیں۔

ہمیں جانچنا چاہئے کہ کس عنصر نے ایسی مزاحمت، ایثار اور قربانی کو جنم دیا کہ لوگوں نے اپنے سینوں کو سپر کیا اور امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کے حکم پر ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے کھڑے ہو گئے۔

دفاع مقدس نے ایرانی سرزمین کا کوئی حصہ الگ نہیں ہونے دیا

ہمارے لئے ملک کی سرحدوں کی حفاظت اہم تھی؛ دفاعِ مقدس کے دور پر ایسی اقدار حاوی تھیں جنہوں نے ملک کو بچایا اور آج اس کا فخر ایرانی قوم کے لئے باقی ہے۔

آرمی کے سابق کمانڈر، مرحوم جنرل محمد سلیمی کہتے تھے کہ جغرافیہ کا استاد آج کلاس میں طلباء کو ایران کا نقشہ دکھاتے وقت کہہ سکتا ہے کہ ہمارے ملک پر حملہ ہؤا، لیکن ہم نے اپنی سرحدیں بچائیں۔ اگر ملک کی سرزمین کا کوئی حصہ الگ ہو گیا ہوتا تو جغرافیہ کا استاد طلباء کے سامنے شرمندہ ہوتا۔

اگر ہم گذشتہ تقریباً 250 سالہ تاریخ کا جائزہ لیں، تو مختلف جنگوں میں ایرانی سرزمین کے کچھ حصے الگ ہوئے ہیں۔ ایران کا رقبہ کسی زمانے میں موجودہ رقبے سے دوگنا سے زیادہ تھا، لیکن دفاعِ مقدس وہ جنگ تھی جس میں ہم نے مزاحمت کی اور کامیابی سے ملکی سرحدوں کا تحفظ کیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha