اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، قم میں مقیم عراقی علما اور طلبہ نے ایک بیان میں کہا کہ ایران کی سول ایوی ایشن کو عراقی فضائی حدود استعمال کرنے سے روکنا اور ایران کی پروازیں معطل کرنا ایک غیر منصفانہ اور غیر دانشمندانہ اقدام ہے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ فیصلہ امریکی دباؤ اور ہدایات کے تحت کیا گیا ہے اور اس سے عراق کی آزادانہ سیاسی فیصلہ سازی متاثر ہوتی ہے۔
عراقی علما اور طلبہ نے کہا کہ اس فیصلے کے اثرات صرف حکومتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مریضوں، طلبہ، زائرین اور ان خاندانوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہوگا جن کے درمیان مذہبی، خاندانی اور تاریخی روابط موجود ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ عراق اپنی تاریخ، مقام اور اثر و رسوخ کے اعتبار سے اس بات کا محتاج نہیں کہ وہ اپنے فیصلے کسی بیرونی طاقت کی خواہش کے مطابق کرے۔ عراق اور ایران کے درمیان مذہبی، ہمسائیگی، تاریخی اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات کو عالمی طاقتوں کے تنازعات اور مفادات کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایران نے عراق کے عوام کے لیے مشکل حالات میں اہم قربانیاں دی ہیں اور اس کے بہترین افراد نے عراق میں جانیں قربان کی ہیں، جن کا خون عراقی شہدا کے خون کے ساتھ ملا ہوا ہے۔ ایسے اقدامات قابل قبول نہیں جو دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات اور مشترکہ مفادات کو نقصان پہنچائیں۔
عراقی علما اور طلبہ نے خبردار کیا کہ اگر سرکاری اداروں کو امریکی دباؤ کے تحت ایران کے خلاف محاصرے اور پابندیوں کی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے استعمال کیا جاتا رہا تو اس سے عراق کی آزادانہ فیصلہ سازی کے حوالے سے ایک خطرناک مثال قائم ہوگی، جس کے نتائج کی مکمل ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
آپ کا تبصرہ