اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، گزشتہ ہفتوں کے دوران یمن کے صوبہ الحدیدہ کے جنوبی علاقوں اور صوبہ تعز کے مغربی علاقوں میں سعودی عرب سے وابستہ فورسز کی جانب سے وسیع علاقوں کا کنٹرول کھونے اور یمنی مسلح افواج کے صوبہ تعز کے جنوبی دروازے پر کنٹرول کے قریب پہنچنے کے بعد، مشرقی یمن کے صوبہ الجوف کے محاذوں پر بھی سعودی حمایت یافتہ فورسز کو بھاری فوجی نقصان اٹھانا پڑا۔
ان فورسز کو سعودی اتحاد کے مرکزِ کارروائی سے، جو سعودی عرب کے جنوب مغرب میں واقع علاقے شرورہ میں قائم ہے، فضائی اور وسیع فوجی مدد حاصل ہونے کے باوجود وہ میدان میں پیش قدمی نہیں کر سکیں۔
سعودی عرب نے اس جنگ کے لیے ایک سال سے زیادہ عرصے تک منصوبہ بندی کی تھی اور اس کا مقصد سعودی عرب کی جنوبی زمینی اور صحرائی سرحدوں کو محفوظ بنانا بتایا گیا تھا۔ یہ وہ سرحدیں ہیں جو صوبہ الجوف کو سعودی عرب کے نجران اور شرورہ کے علاقوں سے ملاتی ہیں۔ تاہم یہ منصوبے ناکام ہو گئے۔
جنوب میں الودیعہ سے لے کر شمال میں لبنات، الیتمہ اور الشعف کے علاقوں تک پھیلے محاذوں سے پسپائی کے بعد سعودی جنگی طیاروں نے جوابی کارروائی کے طور پر درجنوں فضائی حملے کیے۔ سعودی عرب نے زمین کو جلا دینے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے سرکاری عمارتوں، عوامی خدمات کی تنصیبات اور دیگر شہری مقامات، جن میں کھیت اور شہریوں کے گھر بھی شامل تھے، کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے۔
رہائشی اور شہری علاقوں پر حملے
یمن کی وزارت صحت کے سرکاری ترجمان انیس الاصبحی نے اخبار الاخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی طیارے صوبہ الجوف میں شہریوں کے خلاف جان بوجھ کر جرائم کا ارتکاب جاری رکھے ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان جرائم کی تازہ ترین کارروائی دو روز قبل شام کو صوبہ الجوف کے دارالحکومت الحزم کے علاقے الباطن میں متعدد شہری گھروں پر حملہ تھا، جس کے نتیجے میں ایک خاندان کے پانچ افراد، جن میں ایک بچہ اور اس کی والدہ بھی شامل تھیں، شہید اور زخمی ہوئے۔
الاصبحی نے مزید کہا کہ اسی روز سعودی جارحیت نے ضلع خب و الشعف میں شہری مقامات کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سات یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے۔
سعودی جنگی طیاروں نے گزشتہ اتوار کو اسی ضلع میں مواصلاتی نظام کے کئی ٹاورز کو بھی نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مواصلات کے شعبے سے وابستہ چار شہری کارکن شہید ہوئے۔
گزشتہ دنوں یمن کے صوبہ الجوف کے بعض محاذوں پر یمنی مسلح افواج اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان جھڑپوں میں کمی کے باوجود مقامی ذرائع نے اخبار الاخبار کو بتایا کہ سعودی جنگی طیاروں نے اس صوبے کے دور دراز علاقوں کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ ان ذرائع کے مطابق ان حملوں کا مقصد ان علاقوں کو یمن کے دیگر صوبوں سے الگ کرنا ہے۔
ان ذرائع نے بتایا کہ سعودی حملوں سے ہونے والی تباہی کا دائرہ صوبہ الجوف کے شہر حزم سے المصلوب اور ضلع العنان کے علاقوں سلبہ اور رحوب تک پھیل گیا ہے۔
جنگی قیدیوں کی جیل پر حملہ
یمن میں قومی کمیٹی برائے امورِ اسرا کے سربراہ عبدالقادر المرتضیٰ نے بھی سعودی عرب پر ایک نئے جرم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز شہر الحزم میں جنگی قیدیوں کی جیل پر ہونے والے حملے کے نتیجے میں حالیہ واقعات کے دوران گرفتار کیے گئے نو افراد ہلاک ہوئے۔
2020 کے بعد کشیدگی میں شدید ترین اضافہ
یمن کے صوبہ الجوف میں سعودی عرب کے حالیہ حملوں میں شدت اس صوبے کے بیشتر اہم اضلاع کے سقوط کے بعد سے حملوں کی پہلی اور شدید ترین لہر ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جو صوبہ الجوف کو یمن کے شمالی اور مشرقی علاقوں اور سعودی عرب کی جنوبی سرحدوں کے درمیان رابطے کا اہم مقام بناتے ہیں۔
ان میں سے بیشتر علاقوں پر 2020 کے آغاز میں کیے گئے ’’فأمکن منهم‘‘ نامی آپریشن کے دوران یمنی مسلح افواج نے کنٹرول حاصل کیا تھا۔
اب ریاض نواز فورسز کی زمینی پیش قدمی کی ناکامی کے بعد یمن کے صوبہ الجوف میں سعودی فضائی حملوں میں شدت نے ایک بار پھر اس صوبے کو یمن کی شمالی سرحدوں پر کشیدگی کے اہم مراکز میں شامل کر دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ