اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب کے پیٹریاٹ PAC-3 فضائی دفاعی نظام کے اہم میزائل ذخائر کا بڑا حصہ امریکی تنصیبات کے تحفظ کے دوران استعمال ہوچکا ہے، جس کے بعد ریاض اپنی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے بیرونی مدد حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکا اور برطانیہ پہلے ہی یمن جنگ کے دوران سعودی عرب کو انٹیلی جنس، تکنیکی معاونت، تربیت اور دیگر فوجی سہولیات فراہم کرتے رہے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال میں اسرائیل کا کردار بھی نمایاں ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔
رپورٹ میں اسرائیلی صحافی بین کاسپٹ کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انصار اللہ کے خلاف مؤثر بازدار صلاحیت پیدا کرنے کا مسئلہ اب بھی برقرار ہے۔ ان کے مطابق امریکا، اسرائیل اور سعودی عرب کے پاس انصار اللہ کو روکنے کی کوئی واضح صلاحیت موجود نہیں۔
اسی تناظر میں اسرائیل نے براہِ راست فوجی کارروائی کے بجائے سعودی عرب کو انٹیلی جنس معاونت اور فضائی دفاعی نظام کی تشکیل میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔
شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر رابرٹ پیپ کے مطابق سعودی عرب نے خفیہ طور پر اسرائیل سے یمن سے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف فضائی دفاع مضبوط بنانے میں مدد مانگی ہے۔ ان کے مطابق یہ تعاون امریکی سینٹکام کی ثالثی سے قائم ایک چینل کے ذریعے جاری ہے، جس کے تحت سعودی عرب کو ابتدائی وارننگ، ٹریکنگ اور دیگر معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ کے بعد یمن کی فلسطینیوں کی حمایت میں کارروائیوں میں اضافے کے ساتھ اسرائیل نے انصار اللہ کی ساخت، قیادت، عسکری صلاحیتوں اور نقل و حرکت کے بارے میں معلومات جمع کرنے کے لیے ایک الگ انٹیلی جنس یونٹ قائم کیا۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق اس یونٹ نے مواصلاتی سگنلز، سیٹلائٹ تصاویر اور یمنی پس منظر رکھنے والے افراد سے حاصل معلومات سے استفادہ کیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگست 2025 میں یمنی قیادت کے ایک اجلاس کو نشانہ بنانے کے لیے بھی فون کالز کی نگرانی سے مقام کا سراغ لگایا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق یمن سعودی عرب کی جنگ میں کسی بھی بیرونی ملک کی انٹیلی جنس، فضائی دفاع، تکنیکی یا لاجسٹک معاونت کو عملی طور پر جنگ میں شرکت تصور کرتا ہے۔
یمنی مؤقف کے مطابق بیرونی شمولیت کا دائرہ بڑھنے کی صورت میں جوابی کارروائی کا دائرہ بھی وسیع کیا جا سکتا ہے، جس میں باب المندب سے بحری جہازوں کی آمدورفت روکنے جیسے اقدامات بھی شامل ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب ایک طرف اسرائیل اور امریکا سمیت مختلف ممالک کے ساتھ دفاعی مشاورت کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی راستے بھی تلاش کر رہا ہے۔
رائٹرز کے حوالے سے تین ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ چین نے سعودی عرب کی درخواست پر ایران سے رابطہ کرکے انصار اللہ پر اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے کارروائیاں محدود کرنے کی درخواست کی ہے۔ اسی طرح ریاض نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ایران سے رابطے کی درخواست کی ہے تاکہ سعودی اقتصادی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔
اسرائیلی انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سکیورٹی اسٹڈیز کے محقق یوئل گوزانسکی کے مطابق سعودی عرب کو آبنائے ہرمز میں رکاوٹ، تیل برآمد کرنے کی صلاحیت کو لاحق خطرات، عراقی گروہوں کی جانب سے سعودی بنیادی ڈھانچے کو دھمکیوں اور باب المندب کے حوالے سے یمنی خطرات کا بیک وقت سامنا ہے۔
ان کے مطابق بیرونی حمایت محدود ہونے کی صورت میں ریاض کے لیے براہِ راست تہران سے مفاہمت اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران سے تعاون حاصل کرنے کا راستہ زیرِ غور آسکتا ہے۔
رپورٹ میں اسرائیلی اخبار یدیعوت احارونوت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ جرمنی میں ایک خفیہ اجلاس ہوا جس میں اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال زامیر، سات عرب ممالک کے فوجی سربراہان اور امریکی سینٹکام کے کمانڈر بریڈ کوپر نے شرکت کی۔
اجلاس میں سعودی فوج کے سربراہ فیاض بن حامد الرویلی بھی شریک تھے۔ رپورٹ کے مطابق ملاقات کا مقصد فریقین کے درمیان فوجی، سکیورٹی اور انٹیلی جنس تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں انٹیلی جنس تعاون کا دائرہ فوجی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کے تحفظ سے لے کر سعودی تیل کی برآمد کے لیے ایسے متبادل راستوں کی تلاش تک پھیل سکتا ہے جو آبنائے ہرمز اور باب المندب سے گزرے بغیر عالمی منڈیوں تک پہنچ سکیں۔
آپ کا تبصرہ