17 ستمبر 2026 - 16:26
مراکش اور صیہونی ریاست کے درمیان سفارتی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

مراکش اور صیہونی ریاست نے سفارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے، دونوں ممالک کے سفارتی دفاتر کو سفارت خانوں میں تبدیل کرنے اور سفیروں کی تعیناتی پر اتفاق کیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی ریاست کی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ نیویارک میں ہونے والے سہ فریقی اجلاس کے دوران کیا گیا، جس میں صیہونی ریاست کے وزیر خارجہ جدعون ساعر، مراکش کے وزیر خارجہ ناصر بوریطہ اور اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے شرکت کی۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات پر بھی اتفاق کیا ہے، جن میں سفارتی نمائندگی کی سطح بڑھانا اور سفیروں کی تعیناتی شامل ہے۔

اس معاہدے کے تحت صیہونی ریاست اور مراکش کے درمیان فضائی پروازوں کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائے گا جبکہ مراکشی فضائی کمپنیوں کو بھی ان پروازوں کے سلسلے میں شریک کیا جائے گا۔ اس منصوبے پر 2026 کے اختتام تک عمل درآمد متوقع ہے۔

دونوں فریقوں نے رواں سال کے اختتام تک سرمایہ کاری کے تحفظ اور دوہرے ٹیکس سے بچاؤ کے شعبوں میں دو معاہدوں کو حتمی شکل دینے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ بیان کے مطابق ان معاہدوں کا مقصد باہمی سرمایہ کاری کو آسان بنانا اور اقتصادی و تجارتی تعلقات کو وسعت دینا ہے۔

مراکش نے 2020 میں امریکہ کی حمایت سے ہونے والے معاہدوں کے تحت صیہونی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل شروع کیا تھا۔

اسی سال متحدہ عرب امارات، بحرین اور سوڈان نے بھی صیہونی ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی جانب اقدامات کیے تھے۔

یہ معاہدے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب فلسطین کا مسئلہ اور فلسطینی علاقوں پر جاری قبضہ اب بھی خطے میں جاری تنازع کے اہم ترین موضوعات میں شامل ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha