اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کی قومی اتحاد پارٹی کے سربراہ بافل طالبانی نے اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ تہران کے دورے کے دوران منگل کی صبح اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات اور گفتگو کی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس ملاقات میں ایران اور عراق کی حکومتوں اور عوام کے درمیان، بالخصوص کردستان عراق کے ساتھ، مضبوط اور تعمیری تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں موجود وسیع امکانات پر زور دیا۔ انہوں نے ایران اور عراق، خصوصاً کردستان عراق کے ساتھ تعلقات کے مستقبل کو روشن اور امید افزا قرار دیا۔
عباس عراقچی نے کردستان عراق، بالخصوص سلیمانیہ کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط اور وسیع کرنے کے لیے ایران کی آمادگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اقتصادی و تجارتی روابط کے فروغ، مشترکہ سرحدوں پر سکیورٹی تعاون بڑھانے اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ اقدامات پر زور دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مشترکہ سرحدوں پر بعض دہشت گردانہ سرگرمیوں اور دشمنوں کی جانب سے ان حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے، دوطرفہ سکیورٹی معاہدے کے مطابق مشترکہ سرحدوں کے تحفظ کے لیے تعاون مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے کرد دوستوں اور خطے کے تمام ممالک کو ان جھوٹے پرچم کی کارروائیوں سے ہوشیار رہنا چاہیے جن کا مقصد پڑوسی ممالک کے درمیان اختلافات پیدا کرنا ہے۔
بافل طالبانی نے بھی تہران کے دورے اور ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایران، عراق اور کردستان عراق کے عوام کے درمیان تاریخی، برادرانہ اور دوستانہ تعلقات کا ذکر کیا۔ انہوں نے عراق کی حکومت اور عوام کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی مسلسل حمایت پر اظہار تشکر کیا۔
طالبانی ایران کو عراق کے عوام کا ہمیشہ سے سب سے مضبوط حامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ اپنے تعلقات اور دوستی پر فخر ہے اور ہم سیاسی، سکیورٹی، اقتصادی اور تجارتی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون اور تعلقات کو ہر سطح پر مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
عراق کی قومی اتحاد پارٹی کے سربراہ نے ایران اور عراق کے درمیان سکیورٹی معاہدے پر عمل درآمد اور دونوں ممالک کے امن و سلامتی کو متاثر کرنے والے دہشت گرد گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے باہمی تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ عراق اور کردستان عراق کبھی بھی اپنی سرزمین کو خطے کے ممالک، بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی یا سکیورٹی خطرے کا مرکز بننے کی اجازت نہیں دیں گے۔
آپ کا تبصرہ