15 ستمبر 2026 - 13:28
صنعاء: بن سلمان کامدد کےلئے ہاتھ پاؤں مارنا یمن کی فتح کو ظاہر کرتا ہے

یمن کی صنعاء حکومت کے ایک عہدیدار نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی یمن کے خلاف حمایت حاصل کرنے کی کوششوں کو یمن کی فتح کی اہمیت اور گہرائی کا مظہر قرار دیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایسے وقت میں جب سعودی عرب کے خلاف یمن کی حکمت عملی ’’محاصرے کے مقابلے میں محاصرہ اور شدت کے مقابلے میں شدت‘‘ کے عنوان سے جاری ہے اور مغربی ساحل پر بڑی فتح بھی حاصل ہوئی ہے، یمن کے نائب وزیر اطلاعات محمد منصور نے کہا ہے کہ محمد بن سلمان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیراعظم سے ٹیلی فونک رابطے، قاہرہ میں ان کی متوقع سرگرمیاں اور امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ سے ملاقات یمن کی فتح کی اہمیت اور گہرائی کو ظاہر کرتی ہیں۔

محمد منصور نے یمن کے المسیرہ ویب سائٹ سے گفتگو میں کہا کہ یہ فتح فوجی، سیاسی، عوامی اور میڈیا کے میدانوں میں ایک اسٹریٹجک فتح ہے۔ جنگی میڈیا کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر یمن کی فتح کی وسعت، اس کے سامنے آنے والے چیلنج اور سعودی۔اماراتی منصوبے کو پہنچنے والے نقصان کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں، جس کی مالیت دسیوں ارب ڈالر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مغربی، برطانوی اور فرانسیسی میڈیا مختصر عرصے میں اس بات پر بحث کرنے لگا کہ سعودی عرب کی قیادت میں فوجی جارحیت کے سب سے بڑے منصوبے کو یمن کس طرح شکست دینے میں کامیاب ہوا۔ اسی طرح صہیونی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں پیدا ہونے والی شدید ہلچل مغربی ساحل کی پیش رفت سے پہنچنے والے صدمے کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔

یمنی عہدیدار نے کہا کہ اس طرح جو کچھ ہوا وہ سعودی، اماراتی، صہیونی اور امریکی منصوبے کے لیے فوجی، سیاسی اور عوامی سطح پر واضح شکست تھی۔ سعودی عرب کو متعدد سیاسی دھچکے بھی لگے ہیں، جن میں سب سے اہم ٹرمپ کا یمن کے خلاف براہِ راست مداخلت سے انکار ہے۔

یمن کے نائب وزیر اطلاعات نے سعودی عرب کی جانب سے مکہ معاہدے کی امید کے بارے میں کہا کہ پاکستان بھی اس تنازع میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے اور پاکستانی فوج اس جنگ میں شامل نہیں ہوگی۔

ان کے مطابق مجموعی طور پر پاکستان اور ترکی کے مؤقف ریاض کے مطالبات سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔ اس دوران سعودی عرب محمد بن سلمان کے قاہرہ کے دورے کے نتائج کا منتظر ہے، تاہم مصری فوج بھی خود کو اس تنازع میں شامل نہیں کرے گی۔

محمد منصور نے کہا کہ بن سلمان کا غیر اعلانیہ قاہرہ دورہ مصر کی اقتصادی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کے تناظر میں ہے، تاہم اس مرحلے پر مصری فوج کا مؤقف فیصلہ کن ہوگا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب امریکہ یمن کے ساتھ براہِ راست جنگ میں داخل ہونے سے گریز کر رہا ہے تو سعودی عرب کا ساتھ دینے کے لیے کون اس محاذ میں شامل ہوگا؟

انہوں نے مزید کہا کہ ریاض ہاتھ پاؤں مار رہا، جدوجہد کر رہا، رشوتیں دے رہا اور فرار کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ صنعاء سعودی عرب کی تمام سرگرمیوں پر چوبیس گھنٹے نظر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل بھی سمجھ چکا ہے کہ سعودی عرب مشکل صورتحال میں پھنس چکا ہے اور خود بھی یمن کے ساتھ جنگ میں شامل نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔

یمنی عہدیدار نے کہا کہ اسرائیل سعودی عرب کو متحدہ عرب امارات اور بحرین کی طرز پر اس کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدوں کی طرف دھکیلنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو انتخابات سے قبل سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یمن کے نائب وزیر اطلاعات نے کہا کہ ممکن ہے سعودی عرب گزشتہ سات دہائیوں سے اسرائیل کے ساتھ جاری اپنے خفیہ تعلقات کو برقرار رکھنے کو ترجیح دے۔ ان کے مطابق سعودی عرب اور اسرائیل کی حالیہ سرگرمیاں یمن کی فتح سے پیدا ہونے والی پریشانی اور بدحواسی کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں۔

محمد منصور نے تعز صوبے کے ذباب علاقے پر سعودی حملوں اور شہریوں کی ہلاکتوں سے متعلق کہا کہ سعودی عرب ان حملوں کے ذریعے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ خمیس مشیط میں کنگ خالد ایئر بیس اور طائف میں کنگ فہد ایئر بیس پر یمنی حملوں کے باوجود اس کی فضائیہ اب بھی کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ یہ اقدامات سعودی عرب کی کمزوری اور شکست کو ظاہر کرتے ہیں اور اس کی حقیقی طاقت کی عکاسی نہیں کرتے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کے فضائی اڈوں کو نشانہ بنانے والے یمنی حملے انتہائی اہم تھے، جبکہ یمن کے خلاف سعودی عرب کے وحشیانہ فضائی حملے اور بے ہنگم فضائی کارروائیاں ریاض کو پہنچنے والے نقصانات کو چھپا نہیں سکتیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha