عمانی مصنف اور تجزیہ کار زاہر المحروقی نے ابنا اہل بیت نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز صرف سمندری آمدورفت سے متعلق تکنیکی مذاکرات کا موضوع نہیں، بلکہ یہ دو مختلف طرزِ فکر کے درمیان آزمائش کا میدان بن چکا ہے؛ ایک طرف بیرونی طاقتوں پر انحصار کے بغیر مقامی اور علاقائی سلامتی کا تصور ہے، جبکہ دوسری جانب خلیج فارس کے سکیورٹی ڈھانچے میں امریکی فوجی کردار کا تسلسل ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی سلامتی کی ایک اہم گزرگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ دو متضاد سکیورٹی نظریات کے ٹکراؤ کا میدان بھی ہے۔ ایک جانب تہران مقامی سلامتی کے قیام اور بیرونی مداخلت کے خاتمے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب واشنگٹن بین الاقوامی استحکام کے نام پر اپنی فوجی بالادستی برقرار رکھنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
اس صورتحال میں موجودہ کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے عمان کا ثالثی کردار توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، اگرچہ بحران کے انتظام سے پائیدار استحکام کی جانب منتقلی میں اس کردار کو ساختی رکاوٹوں کا سامنا ہے اور تکنیکی سطح پر مؤثر ہونے کے باوجود یہ عمل اب بھی خطے سے باہر کی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے مسئلے سے دوچار ہے۔
اسی حوالے سے عمانی مصنف اور سیاسی تجزیہ کار زاہر المحروقی نے ابنا سے گفتگو میں آبنائے ہرمز میں سمندری آمدورفت کے انتظامات سے متعلق تکنیکی مذاکرات اور اس سے بھی بڑھ کر امریکی فوجی سایے سے آزاد ایک مطلوبہ اور مقامی سکیورٹی ماڈل کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیا۔
عمانی تجزیہ کار نے خلیج فارس کی سلامتی کے حوالے سے ایران اور امریکہ کے اختلافِ رائے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تہران اور مسقط کے مذاکرات کو موجودہ کشیدگی کے انتظام کے لیے ’’سیفٹی والو‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق واشنگٹن آبنائے ہرمز کی سلامتی کو سیاسی مذاکرات میں ایک دباؤ کے آلے میں تبدیل کرنے کی عمان اور ایران کی صلاحیت کو محدود کرنے کی کوشش میں ناکام رہا ہے۔
زاہر المحروقی نے آبنائے ہرمز میں سمندری آمدورفت کے انتظامات سے متعلق تکنیکی مذاکرات کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان بات چیت اب تک زیادہ تر بحران کے انتظام اور کشیدگی میں اضافے کو روکنے کے لیے رابطے کا ایک ذریعہ رہی ہے اور ابھی تک خطے میں ایک پائیدار سکیورٹی ماڈل تشکیل دینے کے لیے درکار بنیادیں فراہم نہیں ہو سکیں۔
ان کے مطابق اس محدودیت کی بنیادی وجہ دونوں فریقوں کے سکیورٹی نقطۂ نظر میں بنیادی فرق ہے۔ تہران خطے کے ممالک کی شمولیت اور بیرونی طاقتوں کی عدم موجودگی پر مبنی علاقائی سکیورٹی نظام کے قیام پر زور دیتا ہے، جبکہ واشنگٹن اور خطے کے بعض ممالک اب بھی خلیج فارس کی سلامتی کے لیے امریکی فوجی موجودگی اور بین الاقوامی اتحادوں کو ضروری سمجھتے ہیں۔
المحروقی کے مطابق یہی اختلاف موجودہ حالات میں تہران اور مسقط کے درمیان مفاہمت کو زیادہ تر تکنیکی اور عارضی معاہدوں تک محدود رکھنے کا باعث بنا ہے اور ایک جامع علاقائی سکیورٹی فریم ورک میں تبدیل ہونے کی ان کی صلاحیت کو کم کر دیا ہے۔
عمانی تجزیہ کار نے عالمی توانائی کی سلامتی میں آبنائے ہرمز کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عمان کی سفارتی کوششوں نے نگرانی کے نظام قائم کرنے اور سمندری حدود میں غیر ارادی تصادم کے امکانات کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کیا ہے، تاہم یہ کوششیں اب تک اس آبی گزرگاہ کی سلامتی میں خطے سے باہر کی طاقتوں کے کردار کو ختم نہیں کر سکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران خطے کی سلامتی میں امریکی فوجی موجودگی کو قبول نہیں کرتا، جبکہ خطے کے بعض ممالک اب بھی توانائی کے وسائل کی سلامتی اور بین الاقوامی بحری آمدورفت کی آزادی کے لیے امریکی موجودگی کو ضروری سمجھتے ہیں۔ ان کے خیال میں یہی اختلاف آبنائے ہرمز کی سلامتی کے انتظام کو موجودہ حالات میں محتاط اور علاقائی سطح تک محدود رکھتا ہے، جبکہ ایک آزاد اور پائیدار سکیورٹی نظام ابھی تشکیل نہیں پا سکا۔
المحروقی نے موجودہ حالات میں عمان کے کردار کو ’’سیفٹی والو‘‘ اور فریقین کے درمیان ’’بفر زون‘‘ قرار دیا اور کہا کہ یہ ماڈل بحران کے انتظام میں کامیاب رہا ہے، تاہم کشیدگی پر قابو پانے کے مرحلے سے جامع سکیورٹی استحکام کی جانب بڑھنے کے لیے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی شرکت کے ساتھ ایک کثیرالجہتی فریم ورک قائم کرنا ضروری ہے۔
ان کے مطابق ایسے فریم ورک کے قیام کے لیے بین الاقوامی بحری قوانین کے مطابق تکنیکی اور سکیورٹی انتظامات پر اتفاق ضروری ہے۔ بحری آمدورفت اور آبی گزرگاہ کی سلامتی سے متعلق تکنیکی معاملات کو جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل جیسے پیچیدہ اور متنازع مسائل سے الگ رکھا جانا چاہیے۔
عمانی تجزیہ کار نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز ایران پر سیاسی اور اقتصادی دباؤ کے فارمولے کا ایک اہم عنصر ہے۔ ان کے مطابق تہران سمندری سلامتی کو اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے معاملے سے جوڑنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ امریکہ ہرمز کے معاملے کو صرف بحری جہازوں کی آمدورفت اور سمندری راہداریوں سے متعلق ایک تکنیکی مسئلے تک محدود کرنا چاہتا ہے۔
المحروقی نے کہا: ’ایران سمندری سلامتی کو اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے معاملے سے جوڑنا چاہتا ہے، لیکن امریکی حکومت مسقط کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے صرف بحری جہازوں کی آمدورفت اور حکمتِ عملی کی سطح کی راہداریوں کو منظم کرنا چاہتی ہے۔‘‘
انہوں نے تاہم واضح کیا کہ واشنگٹن کی جانب سے عمان پر دباؤ ڈال کر تہران کو آبنائے ہرمز کی سلامتی کو وسیع تر سیاسی مذاکرات میں سودے بازی کے آلے کے طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت سے محروم کرنے کی کوشش ناکام رہی ہے۔
المحروقی نے ایران اور عمان کے مذاکرات کی نگرانی سے متعلق واشنگٹن کے مقصد کے بارے میں کہا کہ امریکہ ایسے علاقائی انتظامات کے قیام کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے جو خطے میں توانائی کی سلامتی کے ضامن کے طور پر اس کے کردار کو پسِ پشت ڈال دیں۔
ان کے خیال میں واشنگٹن قلیل مدت میں خلیج فارس میں ایک مکمل طور پر مقامی سکیورٹی نظام کے قیام کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم حالات کی سمت ایک ’’مخلوط سکیورٹی نظام‘‘ کے قیام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ایسے ماڈل میں عملی تفصیلات اور زمینی انتظامات ایران، عمان اور خلیجی ممالک کے درمیان رابطہ کاری کے ذریعے طے کیے جائیں گے، جبکہ امریکہ اور دیگر بین الاقوامی طاقتیں اعلیٰ سطح پر تزویراتی چھتری اور فوجی توازن کو اپنے ہاتھ میں رکھنے کی کوشش جاری رکھیں گی۔
اس بنیاد پر آبنائے ہرمز صرف بحری آمدورفت سے متعلق تکنیکی مذاکرات کا موضوع نہیں، بلکہ یہ دو مختلف طرزِ فکر کے درمیان آزمائش کا میدان بن چکا ہے: بیرونی طاقتوں پر انحصار کے بغیر مقامی اور علاقائی سلامتی، بمقابلہ خلیج فارس کے سکیورٹی ڈھانچے میں امریکی فوجی کردار کا تسلسل۔
آپ کا تبصرہ