اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق ٹرمپ نے صدارتی طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ پر ردعمل دیا جس میں کہا گیا تھا کہ بعض چینی اداروں نے اردن میں امریکی فوجی اڈے کی سیٹلائٹ تصاویر ایران کو فراہم کی تھیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ اگر یہ کہا جا رہا ہے کہ چین امریکا کی جاسوسی کرتا ہے تو یہ درست ہے، تاہم امریکا بھی چین کے خلاف جاسوسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف معلومات جمع کرنے کے لیے اسی طرح کے اقدامات کرتے ہیں اور اس معاملے کو زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا جانا چاہیے۔
یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے خدشات موجود ہیں اور چینی صدر شی جن پنگ کے 24 ستمبر کو وائٹ ہاؤس کے دورے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے 17 جولائی کو اردن میں امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والے موفق السلطي ایئر بیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا تھا، جس میں تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی۔
وال اسٹریٹ جرنل نےاپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ بعض چینی حکام نے اس فوجی اڈے سے متعلق معلومات اور سیٹلائٹ تصاویر ایران کو فراہم کیں، تاہم امریکی حکام نے مبینہ طور پر ملوث چینی اداروں کے نام ظاہر نہیں کیے اور نہ ہی چینی حکومت کو براہ راست ذمہ دار قرار دیا۔
چین نے ان الزامات پر امریکی حکام سے شواہد پیش کرنے کا مطالبہ کیا اور سیٹلائٹ تصاویر کی منتقلی میں چینی اداروں کے ملوث ہونے سے انکار کیا۔
آپ کا تبصرہ