اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین کی وزارت خارجہ نے سرکاری خبر رساں ادارے کے ذریعے جاری کردہ ایک بیان میں آبنائے ہرمز سے متعلق عمان کے مجوزہ اجلاس میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے بحری جہازوں کی آمدورفت کی سلامتی سے متعلق اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔
بحرین نے کہا کہ اس آبی گزرگاہ سے متعلق کسی بھی انتظامی طریقہ کار کی بنیاد اقوام متحدہ کے سمندری قوانین کے کنونشن پر ہونی چاہیے۔
منامہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خطے کی سلامتی حملوں کے خاتمے، بین الاقوامی ذمہ داری اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے۔
بحرین کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ وہ عمان کے دارالحکومت میں آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ہونے والے مجوزہ وزارتی اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔
وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا کہ بحرین پہلے ہی سرکاری ذرائع کے ذریعے عمان کو اپنے مؤقف سے آگاہ کر چکا ہے اور جب تک بحرین اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات بحال نہیں ہوتے، وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی شرکت والے کسی اجتماعی اجلاس میں شریک نہیں ہوگا۔
تاہم منامہ نے دعویٰ کیا کہ اس فیصلے کا مطلب عمان کی مذاکراتی کوششوں کو نظرانداز کرنا نہیں ہے اور بحرین اب بھی اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
بحرین کی وزارت خارجہ نے مزید دعویٰ کیا کہ اس ملک کے بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ سعودی عرب میں تیل کی ایک پائپ لائن پر بھی حملہ کیا گیا ہے۔
بحرینی حکام نے ان دعوؤں کی بنیاد پر خطے کی موجودہ صورتحال کو بدستور خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حملوں کو نظرانداز کرنے یا مفاہمت اور رعایت کی پالیسی اختیار کرنے سے خطے میں سلامتی اور استحکام قائم نہیں کیا جا سکتا۔
بیان کے ایک اور حصے میں بحرین نے جسے اس نے ’’حسن ہمسائیگی‘‘ قرار دیا، اس پر زور دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امن حملوں کے خاتمے، ان کی ذمہ داری قبول کرنے، نقصانات کے ازالے، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام اور کسی ملک کی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف حملوں کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے۔
منامہ نے اختلافات کو قانونی ذرائع سے حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ بحرین کے نزدیک حسن ہمسائیگی ایک قانونی ذمہ داری ہے، جسے محض سیاسی اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
بحرین کی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت اور بحری نقل و حمل سے متعلق کسی بھی باضابطہ انتظام کی بنیاد 1982ء کے اقوام متحدہ کے سمندری قوانین کے کنونشن پر ہونی چاہیے اور اس میں بحری جہازوں کو آزادانہ گزرنے کے حق کی ضمانت بھی شامل ہونی چاہیے۔
وزارت خارجہ نے ایسے کسی انتظام میں خلیج تعاون کونسل کے تمام رکن ممالک کی شرکت کا بھی مطالبہ کیا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی کا ان ممالک کی توانائی کی ترسیل اور تجارت کے تحفظ سے براہِ راست تعلق ہے۔
بحرین نے آخر میں کہا کہ وہ آزادانہ بحری نقل و حرکت اور خطے کی سلامتی کے تحفظ کے لیے قانونی اور سفارتی ذرائع استعمال کرے گا اور ایسے ہر انتظام کی حمایت کرے گا جو قانون اور اجتماعی اتفاق رائے کی بنیاد پر قائم ہو۔
یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خبر شائع کرنے والے ذریعے کے مطابق بحرین اس سے قبل آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکہ کی حمایت یافتہ اتحاد میں شامل ہو چکا ہے اور سلامتی کونسل میں اپنی کوششیں ناکام ہونے کے بعد اس آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کے لیے مزید ممالک کی حمایت حاصل کرنے کا مطالبہ بھی کر چکا ہے۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ بحرین اپنی سرزمین اور فضائی حدود امریکی فوج کے لیے استعمال ہونے دیتا ہے، جبکہ ماضی میں اسی سرزمین اور فضائی حدود سے ایران کے خلاف متعدد امریکی حملے کیے گئے ہیں، جن کے نتیجے میں بڑی تعداد میں ایرانی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ