13 ستمبر 2026 - 16:18
نتانیاهو نے سنوار کے حملے سے متعلق ابوظہبی کی وارننگ نظرانداز کی، 7 اکتوبر کی غلطی دہرائی

عبرانی یونیورسٹی کے اسلامی و مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر ایلی بوده نے کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید کی جانب سے صیہونی وزیراعظم بنیامین نتانیاهو کو یحییٰ سنوار کی ممکنہ کارروائی سے متعلق دی گئی وارننگ کو نظرانداز کرنا، اکتوبر 1973 کی جنگ اور 7 اکتوبر کے حملے سے قبل کی گئی انٹیلی جنس غلطیوں کی یاد تازہ کرتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عبرانی یونیورسٹی کے اسلامی و مشرق وسطیٰ کے امور کے استاد ایلی بوده نے صیہونی ریاست کے چینل 12 پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں متحدہ عرب امارات اور مصر کی جانب سے بنیامین نتانیاهو کو دی گئی مبینہ وارننگز کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ صیہونی وزیراعظم نے حماس سے لاحق خطرے کا اندازہ لگانے میں سنگین غلطی کی۔

ان کے مطابق نتانیاهو نے حماس کی فوجی صلاحیت کے بارے میں کیے گئے بعض اندازوں، یحییٰ سنوار کے ساتھ کشیدہ مذاکرات اور اقتصادی مراعات کے اثرات پر بھروسا کرتے ہوئے حماس کی ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔

ایلی بوده، جو عبرانی یونیورسٹی میں اسلامی و مشرق وسطیٰ کے امور کے استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ’’متافیم‘‘ ادارے اور علاقائی سلامتی کے اتحاد کے بورڈ کے رکن بھی ہیں، نے یحییٰ سنوار کی جانب سے ممکنہ کارروائی کے بارے میں محمد بن زاید کی بنیامین نتانیاهو کو دی گئی وارننگ کی اطلاعات کا حوالہ دیا۔

انہوں نے متحدہ عرب امارات کی وزارت خارجہ کے اس بیان کو کہ ابوظہبی اور صیہونی ریاست کے درمیان براہِ راست رابطے کے ذرائع موجود ہیں، ان اطلاعات کی بالواسطہ تصدیق قرار دیا۔

ایلی بوده کے مطابق ابوظہبی کی سفارتی زبان اس انداز میں ترتیب دی گئی کہ تل ابیب کے ساتھ رابطوں کے وجود کی تصدیق بھی ہو جائے اور عرب اور فلسطینی دنیا میں اس کے سیاسی اثرات بھی کم سے کم ہوں۔

انہوں نے نتانیاهو کے دفتر سے بعض معلومات افشا ہونے پر متحدہ عرب امارات کے سابق ردعمل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسی وارننگ سرے سے دی ہی نہیں گئی تھی تو ابوظہبی اسے واضح طور پر مسترد کر سکتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ نتانیاهو کی جانب سے متحدہ عرب امارات اور ممکنہ طور پر مصر کی وارننگ کو نظرانداز کرنا ایک طرح کے غرور اور غلط اندازے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ اس غلط اندازے کے تحت حماس کی فوجی طاقت کو کم سمجھا گیا، سنوار اور صیہونی حکام کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو غلط انداز میں سمجھا گیا اور یہ خیال کیا گیا کہ اقتصادی مراعات اور قطر کے ساتھ تعلقات حماس کو کسی بڑے فوجی آپریشن سے روک دیں گے۔

اس صیہونی ماہر نے 7 اکتوبر سے قبل ملنے والی وارننگز کا موازنہ اکتوبر 1973 کی جنگ سے قبل اردن کے اُس وقت کے بادشاہ شاہ حسین کی جانب سے دی گئی وارننگ سے کیا۔

ان کے مطابق شاہ حسین نے 25 ستمبر 1973 کو صیہونی ریاست کی اُس وقت کی وزیراعظم گولڈا میئر سے خفیہ ملاقات کے بعد مصر اور شام کی فوجی تیاریوں اور سیاسی تعطل سے ان ممالک کی قیادت میں بڑھنے والی مایوسی کے بارے میں خبردار کیا تھا۔

ایلی بوده کے خیال میں دونوں واقعات کے درمیان مماثلت ظاہر کرتی ہے کہ صیہونی ریاست ایک بار پھر خطرے کی ابتدائی علامات کو نظرانداز کرنے کے خطرے سے دوچار ہے۔

تاہم انہوں نے موجودہ صورتحال کو بعض پہلوؤں سے زیادہ خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1973 میں گولڈا میئر نے موصول ہونے والی معلومات فوجی کمانڈروں اور موساد کے ساتھ شیئر کی تھیں اور انٹیلی جنس اندازے کی غلطی کی ذمہ داری کئی اداروں کے درمیان تقسیم تھی۔ لیکن محمد بن زاید کی وارننگ کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نتانیاهو کو ذاتی طور پر اس سے آگاہ کیا گیا اور انہوں نے یہ معاملہ سلامتی کے اداروں کے سربراہان کے ساتھ شیئر نہیں کیا۔

تا

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha