اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مطابق حماس نے ایک بیان میں بھارت میں ہونے والے بریکس کے 18ویں سربراہ اجلاس کے اختتامی اعلامیے ’’نئی دہلی اعلامیہ 2026‘‘ میں فلسطینی عوام کے جائز اور ناقابلِ تنسیخ حقوق کی حمایت میں پیش کیے گئے مؤقف کا خیرمقدم کیا۔
حماس نے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود تشدد کے جاری رہنے پر گہری تشویش، انسانی امداد تک مکمل اور بلا رکاوٹ رسائی کی ضرورت اور فلسطینیوں کو غزہ سے جبری بے دخل کرنے یا علاقے میں جغرافیائی و آبادیاتی تبدیلی کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کو اہم قرار دیا۔
اعلامیے میں فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور واپسی پر زور دینے کے ساتھ فلسطین کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کی حمایت بھی کی گئی ہے۔
بریکس ممالک نے بھوک کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے، شہریوں، اسپتالوں اور دیگر شہری تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی جبکہ مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی اور تاریخی حیثیت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کیا۔
حماس نے بریکس ممالک کے ان مؤقف کو فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ