11 ستمبر 2026 - 17:48
عراق کے کردستان میں دو سال بعد بھی نئی حکومت کا قیام ممکن نہ ہو سکا

عراق کے کردستان میں پارلیمانی انتخابات کو تقریباً دو سال گزرنے کے باوجود نئی حکومت تشکیل نہیں دی جا سکی اور خطہ بدستور عبوری انتظامیہ کے تحت چل رہا ہے۔ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے درمیان وزارتوں اور اہم حکومتی عہدوں کی تقسیم پر اختلافات برقرار ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کے کردستان میں نئی حکومت کے قیام اور پارلیمنٹ کو مکمل طور پر فعال کرنے کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکی ہیں اور خطہ عبوری حکومت کے ذریعے چلایا جا رہا ہے۔

کردستان کی دو بڑی سیاسی جماعتوں، کردستان ڈیموکریٹک پارٹی اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے درمیان حکومت سازی کے فارمولے پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ دونوں جماعتیں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں اور ہر ایک دوسری جماعت پر اپنے سیاسی مطالبات مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

نشستوں کی تعداد پر اختلاف

کردستان ڈیموکریٹک پارٹی کے رکن وفا محمد کریم نے المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کا مؤقف ہے کہ نئی حکومت کی تشکیل اور پارلیمنٹ کو فعال کرنے کا عمل انتخابات میں حاصل ہونے والی نشستوں کے تناسب کے مطابق ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ کردستان میں کسی بھی حکومت کی تشکیل اور وزارتوں کی تقسیم کے لیے ہر جماعت کی حاصل کردہ پارلیمانی نشستیں بنیادی معیار ہونی چاہئیں، اس لیے کسی جماعت کی جانب سے اپنے انتخابی حصے سے زیادہ حکومتی عہدوں کا مطالبہ قابل قبول نہیں۔

کریم کے مطابق گزشتہ پارلیمانی انتخابات میں کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے سب سے زیادہ ووٹ اور نشستیں حاصل کیں اور اسے 39 نشستیں ملیں، جبکہ پیٹریاٹک یونین آف کردستان نے 23 نشستیں حاصل کیں۔

انہوں نے پیٹریاٹک یونین کی جانب سے حکومتی عہدوں کی برابر تقسیم کے مطالبے کو بھی مسترد کردیا۔

پیٹریاٹک یونین کا مؤقف

پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے رکن غیاث السورجی نے کہا کہ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے گزشتہ دو پارلیمانی ادوار کے دوران اتحادی جماعتوں اور مختلف سیاسی حصوں کی شمولیت سے حکومتیں تشکیل دیں اور اس دوران پیٹریاٹک یونین کو بھی متعدد وزارتیں دی گئیں۔

انہوں نے کہا کہ اب کردستان ڈیموکریٹک پارٹی پیٹریاٹک یونین کو نئی نسل تحریک اور دیگر جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی صورت میں حکومت سازی کے عمل میں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

السورجی کے مطابق موجودہ صورتحال سے یہ تاثر ملتا ہے کہ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی پیٹریاٹک یونین کی شمولیت کے بغیر حکومت تشکیل دے کر کردستان کے اہم عہدے، بشمول علاقائی صدارت، حکومت کی سربراہی اور خودمختار وزارتیں اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔

کردستان کے عوام بھی سیاسی کشمکش سے نالاں

کردستان کی تبدیلی تحریک کے رکن لقمان حسن نے کہا کہ دونوں بڑی جماعتیں نئی حکومت بنائیں یا نہ بنائیں، عام شہریوں کے حالات میں کوئی نمایاں تبدیلی نہیں آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں جب کردستان میں منتخب حکومت اور پارلیمنٹ موجود تھی، تب بھی عوام کے حالات میں کوئی خاص فرق نہیں پڑا اور وہی سیاسی جماعتیں اقتدار میں رہیں۔

لقمان حسن نے حکومتی اور سیاسی جماعتوں پر مالی بدعنوانی کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری وسائل کے غلط استعمال کے ساتھ ساتھ صحت اور علاج کے شعبے میں ملنے والی امداد بھی متاثر ہوئی ہے، حتیٰ کہ کینسر کے مریضوں کے لیے مخصوص ادویات کے حوالے سے بھی سنگین شکایات سامنے آئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران جماعتوں سے عوام کو زیادہ امید نہیں، خواہ نئی حکومت تشکیل پائے یا سیاسی تعطل مزید برقرار رہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha