10 ستمبر 2026 - 18:18
یمنی انسانی حقوق کمیشن: سعودی عرب نے شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کا ارتکاب کیا

یمن کے قومی انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ علی تیسیر نے سعودی عرب پر یمن میں شہریوں اور غیر فوجی مقامات کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ رہائشی علاقوں پر حملے بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کے قومی انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ علی تیسیر نے جمعرات کو ایک گفتگو میں سعودی عرب پر یمن میں شہریوں اور غیر فوجی مقامات کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا الزام عائد کیا۔

تیسیر نے کہا: ’’جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنانا منظم اجتماعی سزا کی پالیسی ہے۔ یہ جرائم بین الاقوامی انسانی قوانین، انسانی حقوق اور بین الاقوامی فوجداری قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور انسانی اقدار اور اصولوں سے بھی متصادم ہیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنانا مکمل جنگی جرم ہے، کیونکہ یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت محفوظ افراد پر براہ راست حملہ ہے۔‘‘

تیسیر نے کہا: ’’خواتین اور شہریوں کو مسلسل نشانہ بنانا ماورائے عدالت قتل کا جرم ہے اور یہ جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔‘‘

یمن کے قومی انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ نے مزید کہا: ’’شہریوں اور زیر حراست افراد کو رکھنے والی جگہوں کو نشانہ بنانا جنیوا کنونشنز کے تحت ممنوع ہے اور محفوظ افراد کا جان بوجھ کر قتل تصور ہوتا ہے۔‘‘

تیسیر نے روم کے قانونِ اساس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’’بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روم قانونِ اساس کی دفعہ 8 کے تحت یہ اقدامات جنگی جرم شمار ہوتے ہیں، جن میں شہریوں اور غیر فوجی مقامات کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا اور محفوظ افراد کا قتل شامل ہے۔ اگر یہ اقدامات شہریوں کے خلاف کسی وسیع اور منظم حملے کے تحت کیے جائیں تو یہ انسانیت کے خلاف جرم بھی شمار ہوتے ہیں۔‘‘

یمنی عہدیدار نے عالمی برادری، سلامتی کونسل اور انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے ان جرائم کی مذمت کریں، جن کے نتیجے میں متعدد افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ متاثرین کی حتمی تعداد مکمل اور دقیق جائزے کے بعد جاری کی جائے گی۔

تیسیر نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ ان واقعات کو نظر انداز کرنا بند کریں جنہیں وہ ’’جارحیت کی خلاف ورزیاں‘‘ قرار دیتے ہیں، اور ان جرائم کو اپنی آئندہ رپورٹ میں سلامتی کونسل کے سامنے پیش کریں۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان واقعات پر عالمی برادری کی مسلسل خاموشی کا مطلب جاری جرائم کی ذمہ داری میں شریک ہونا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha