اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اٹلی سے تعلق رکھنے والے یہودی اداکار، گلوکار، مصنف اور دانشور مونی اوادیا نے 24 اگست 2026 کو ٹیلی ویژن کے تجزیاتی پروگرام ’’اِن اوندا‘‘ میں مشرق وسطیٰ کے تنازع پر گفتگو کرتے ہوئے صیہونیت اور تل ابیب کی صیہونی حکومت کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی۔
مونی اوادیا نے کہا: ’’نیتن یاہو اور صیہونیوں سے کچھ بھی بعید نہیں۔ ہمارا سامنا ایک مجرمانہ ذہنیت سے ہے۔‘‘
پروگرام کے میزبان لوکا تیلِیزے نے مونی اوادیا سے سوال کیا: ’’کیا آپ ایک یہودی کی حیثیت سے ’صیہونی‘ کے لفظ کو منفی صفت کے طور پر استعمال کرتے ہیں؟‘‘
مونی اوادیا نے جواب دیا: ’’ہاں، اور اب میں دوبارہ کبھی ’یہودی ریاست‘ یا ’اسرائیلی ریاست‘ کے بارے میں کوئی بات نہیں سننا چاہتا۔ میرے نزدیک یہ ایک صیہونی ریاست ہے جو ایک ایسے نظریے پر قائم ہے جو مجرمانہ، نوآبادیاتی، نسل پرستانہ، نسلی امتیاز پر مبنی اور بالآخر نسل کش ہے۔ میرے خیال میں آج اس کی یہی تعریف قابل قبول ہے۔ میں یہ بات ایک یہودی کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا: ’’میں ایک یہودی کی حیثیت سے صیہونیت کو یہودیت کے ساتھ جوڑنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتا ہوں۔ میں مذہبی شخص نہیں ہوں۔‘‘
آپ کا تبصرہ