17 جولائی 2010 - 19:30

سوات میں سہراب چوک کے مصروف ترین بازا ر میں خودکش حملہ ،3افراد جاں بحق ،11زخمی ، دس سے زائد دکانوں کو بھی نقصان پہنچا

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں 2حملہ آور ہلاک ،2کو زندہ گرفتار کر لیاگیا،واقعہ کے بعد شہرکے تمام بازار بند،جائے وقوعہ سے حملہ آورکے جسمانی اعضاء اوردیگر شواہدبرآمد، ایک دوسرے خود کش حملے کی کوشش ناکام بنادی گئی ، گرین چوک سے حملہ آور زخمی حالت میں گرفتار ،خود کش جیکٹ برآمد ،ایک مشتبہ شخص کوبھی حراست میں لے لیاگیا۔

تفصیلات کے مطابق ہفتے کی صبح سیکورٹی فورسز کو مینگورہ شہر میں دو خودکش حملہ آوروں کے داخلے کی اطلاع ملی جس پر فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا اسی دوران دن گیارہ بجے کے قریب سیکورٹی فورسز نے گرین چوک میں ایک خودکش حملہ آور کو گھیرے میں لے لیا اور اس کی گاڑی پر چاروں طرف سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں حملہ آور زخمی ہو گیا جسے گرفتار کر کے اس کے قبضے سے خودکش جیکٹ، ڈیونیٹرز اوردیگر دھماکہ خیز مواد برآمد کر لیا گیا گرفتار کئے جانیوالے خودکش حملہ آور کی عمر چودہ سے سولہ سال تک بتائی گئی ہے۔

گرفتار حملہ آور کی نشاندہی پر سیکورٹی فورسز نے سہراب چوک میں ایک گھر کا محاصرہ کر کے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 2حملہ آور ہلاک ہو گئے جبکہ ایک فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جس نے سہراب چوک میں پہنچ کر خود کو دھماکہ خیزمواد سے اڑا دیا۔گرین چوک سے ہی ایک اور مشتبہ شخص کو بھی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

خودکش حملے کے وقت سیکورٹی فورسز نے شہر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی اور شہریوں کی بڑی تعداد سہراب چوک میں ایک پلازے کے اندر جمع تھی۔ دھماکے کے نتیجے میں دو افراد موقع پر جاں بحق جبکہ 12زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر سیدو شریف ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ایک اور شدید زخمی دم توڑ گیا۔جاں بحق ہونیوالوں میں دو کی شناخت فرحان اور حسین کے نام سے ہوئی ہے جبکہ زخمیوں میں اکبر خان، بیرام خان، محمد ریاض، گوہر، فضل الرحمن، فضلِ حق اور زبیر شامل ہیں۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق خودکش حملے میں پندرہ کلوگرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا، خودکش حملے کی شدت سے دس سے زائد دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ واقعہ کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا شہر کے تمام بازار بند کروا دئیے اور جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آور کے اعضاء اور دیگر شواہد اکٹھے کر لئے گئے۔ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے دہشتگردوں کیخلاف سرچ آپریشن شروع کر رکھا ہے

 آخری اطلاعات تک مزید کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی۔ ڈی آئی جی مالاکنڈ قاضی جمیل نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خود کش حملے میں دو افراد کے جاں بحق اور 10کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ۔ انہوں نے کہا کہ حملہ خودکش حملے سے تھوڑی دیر قبل گرین چوک سے حملہ آور کا ایک ساتھی گرفتار کیا گیا تھا جس سے تفتیش جاری ہے اورتفصیلات سامنے آنے میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں سیکورٹی کی صورتحال پہلے سے بہتر ہے لیکن دہشت گرد عام شہریوں کو نقصان پہنچانے کی تلاش میں رہتے ہیں سہراب چوک مصروف ترین بازار ہے اسی لئے دہشتگردوں نے اسے ہدف بنایا۔

 انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے حوالے سے خفیہ اطلاعات بھی ہوتی ہیں ان پر کام کیا جاتا ہے۔ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے کافی حملے روکے ہیں۔ ڈی پی او سوات قاضی غلام فاروق نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں نے ایک خودکش حملہ آور کو گرفتار کیا تھا اور دوسرے کا پیچھا کیا جارہا تھا کہ اس نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے ہم دہشتگردوں کو انجام تک پہنچائیں گے۔

 صوبائی وزیر اطلاعات میاں افتخار حسین نے کہا کہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا ہمارے ہاں دہشتگردی کا خاتمہ مشکل ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے ترجمان سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ دہشتگردوں کی کمر توڑدی گئی ہے اب وہ مختلف علاقوں میں چھپتے پھر رہے ہیں زیادہ تر دہشتگرد قبائلی علاقوں سے آتے ہیں۔ وہاں سے دہشتگردوں کا نیٹ ورک ختم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں ایک خودکش حملہ آور کوگرفتار کیا گیا اور سیکورٹی فورسز دہشتگردی کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ قوم کو متحد ہو کر دہشتگردوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

 انہوں نے کہا کہ ہم آخری دم تک دہشتگردوں کے خلاف لڑیں گے وہ خوف و ہراس پھیلانے کیلئے عام شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور حکومت پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائیاں روکی جائیں ۔ لیکن ہم دہشتگردوں کے خاتمے کیلئے پرعزم ہیں۔ سیکورٹی فورسز کے نوجوان بھی شہادتیں پیش کر کے قوم کو محفوظ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگرد ہم میں سے ہی ہیں جو ملک کو اندر سے تباہ اور معیشت برباد کرنا چاہتے ہیں ان کو پہچاننا ہوگا اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو کردار ادا کرنا ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

١۵۲