اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی حکومت مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کی سرگرمیوں کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے، جس کے تحت مغربی کنارے کی غیر قانونی بستیوں میں سرگرم اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ پابندیاں امریکا کی مخالفت اور برطانیہ کی حکمران لیبر پارٹی کے بعض ارکان کے تحفظات کے باوجود عائد کی جائیں گی۔
برطانوی کابینہ کے اجلاس میں منگل 8 ستمبر کو ان پابندیوں پر غور کیا جائے گا، جس کے بعد برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ پارلیمنٹ میں حکومت کے فیصلے اور اس کی تفصیلات کا اعلان کریں گے۔
مجوزہ پابندیوں میں مخصوص افراد یا اداروں پر مالی پابندیاں شامل نہیں ہوں گی، تاہم مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں میں سرگرم کمپنیوں کے ساتھ تجارتی لین دین پر پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔
برطانیہ نے آسٹریلیا، کینیڈا، نیوزی لینڈ، ناروے اور فرانس کے ساتھ مل کر رواں سال جون میں مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری میں غیر معمولی اضافے اور آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے ردعمل میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کے خلاف پابندیاں عائد کی تھیں۔ ان پابندیوں میں ایک فرد اور 6 کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل اسموتریچ نے برطانوی اقدام پر شدید ردعمل دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ برطانوی سفیر کو منگل ہی کے روز اسرائیل سے نکال دیا جائے۔
اسموتریچ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عبرانی زبان میں برطانوی حکومت کو ’’یہود مخالف‘‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ اسرائیل میں برطانوی انتداب کا دور ختم ہوچکا ہے۔
برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ بھی اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
آپ کا تبصرہ