اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، معروف عرب تجزیہ کار عبدالباری عطوان نے اپنے تازہ مضمون میں خطے میں جاری کشیدگی اور ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان محاذ آرائی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے اپنی جنگی حکمتِ عملی میں بنیادی تبدیلی کی ہے۔
عطوان کے مطابق، ایران نے ماضی میں اختیار کی جانے والی تحمل، احتیاط اور محدود و حساب شدہ جوابی کارروائی کی پالیسی ترک کردی ہے اور اب فوری، تیز اور انتقامی کارروائی کے ساتھ جنگ کا دائرہ وسیع کرنے اور جدید درست نشانہ بنانے والے میزائلوں کو میدان میں اتارنے کی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی نئی حکمتِ عملی کا مقصد دشمن کے حملے کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر پیش قدمی کرتے ہوئے دشمن کے اہداف کو نشانہ بنانا اور اپنی دفاعی قوت کو مؤثر بنانا ہے۔
عطوان نے ایرانی حکام کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے خطے میں امریکی اڈوں کو میزائل حملوں کا نشانہ بنائے جانے کے خدشے نے امریکی حکام پر دباؤ بڑھایا ہے۔ ان کے مطابق، اسی صورتحال کے باعث اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی ایران کی جانب سے کسی حملے کی صورت میں جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔
ایران کی نئی دفاعی حکمتِ عملی
عطوان کا کہنا ہے کہ ایران کی سیاسی قیادت اور فوجی کمان نے محدود حملے سے وسیع پیمانے پر کارروائی کی جانب رخ کیا ہے اور ایسے جدید ہتھیار بھی استعمال کیے ہیں جو گزشتہ محاذ آرائیوں میں میدان جنگ میں نہیں لائے گئے تھے۔
ان کے مطابق اس حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد ایسا دفاعی توازن قائم کرنا ہے جس میں ایران دشمن کے حملے کا انتظار کرنے کے بجائے فوری طور پر پیشگی کارروائی کرسکے۔
عطوان نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے اس بیان کا بھی حوالہ دیا کہ اگر ایران کی تیل برآمدات میں خلل ڈالا گیا تو آبنائے ہرمز یا خطے کے کسی دوسرے راستے سے تیل کی ایک بوند بھی گزرنے نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس پالیسی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش برقرار رکھنے کے ساتھ خطے میں امریکی فوجی اڈوں، تیل کے کنوؤں اور امریکی تیل کمپنیوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
عطوان نے مزید دعویٰ کیا کہ خطے کی بیشتر تیل پیدا کرنے والی عرب ریاستوں، بالخصوص خلیجی ممالک، کی تیل اور گیس کی برآمدات میں طویل جنگ کے باعث شدید مشکلات پیدا ہوئی ہیں، جس سے ان کے بجٹ خسارے میں اضافہ ہوا ہے اور انہیں اپنے مالی ذخائر استعمال کرنے یا قرض لینے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔
اسرائیل کو ایران پر بڑے حملے سے خبردار کیا
عطوان نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ایران کے خلاف دھمکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر بڑے پیمانے کا حملہ اسرائیلی حکومت کے لیے انتہائی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
ان کے مطابق، اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کارروائیوں کے باوجود ایرانی ردعمل نے اسرائیل کے مختلف علاقوں کو متاثر کیا ہے، تاہم اسرائیلی حکام ان نقصانات کی تصاویر اور تفصیلات کو میڈیا میں نشر ہونے سے روک رہے ہیں۔
عطوان نے اپنے مضمون کے اختتام پر دعویٰ کیا کہ موجودہ صورتحال میں طاقت کا توازن اسرائیل کے حق میں نہیں بلکہ ایران کے حق میں تبدیل ہوا ہے۔ ان کے بقول، ایران نے امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کو براہِ راست یا اپنے اتحادیوں کے ذریعے نشانہ بنانے کی جرأت کرکے خطے کی جنگی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ