اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کے مفتی جعفری شیخ احمد قبلان نے ملک کے جنوبی علاقوں کی صورتحال کو تباہ کن اور فیصلہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوب لبنان کی خودمختاری اور ریاستی حاکمیت کی بنیاد ہے، اس کے بغیر نہ حکومت کا وجود باقی رہتا ہے، نہ قانونی حیثیت، قومی شراکت داری اور نہ ہی لبنان کی بقا۔
شیخ احمد قبلان نے کہا کہ جنوبی لبنان میں جاری صورتحال ملک کی حکومت، حاکمیت اور قومی تصور کے حوالے سے انتہائی تشویشناک ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات خطے اور لبنان کے سیاسی و خودمختار مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی فیصلہ کن جنگ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔
انہوں نے لبنانی حکام پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ موجودہ حکومت نے ملک کی حاکمیت، عوام اور قومی مفادات کو نظرانداز کر دیا ہے اور ایسے سیاسی رجحانات اختیار کیے جا رہے ہیں جو امریکی مفادات سے ہم آہنگ ہیں۔
قبلان نے خبردار کیا کہ سیاسی دباؤ، بلیک میلنگ اور واشنگٹن و تل ابیب کے ساتھ تعاون کے ذریعے کسی ایک لبنانی طبقے کو ختم کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی، چاہے اس کے نتیجے میں پورا مشرقِ وسطیٰ ہی آگ کی لپیٹ میں کیوں نہ آ جائے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ فیصلہ کن دور میں لبنان کے لیے ’’وجودی استقامت، قومی قربانی، مکمل مزاحمت، تاریخی شراکت داری اور عوامی خودمختاری‘‘ ہی راستہ ہے۔ ان کے بقول مزاحمت لبنان کے لیے سب سے بڑا انتخاب اور قومی وابستگی کی علامت ہے، جس کا کوئی متبادل نہیں۔
مفتی جعفری لبنان نے مزید الزام عائد کیا کہ بعض سیاسی قوتیں جنوبی لبنان، بیروت کے مضافاتی علاقے ضاحیہ اور بقاع کو ایسے معاہدوں اور سکیورٹی انتظامات کے ذریعے کمزور کرنا چاہتی ہیں جنہوں نے ملک کو تاریخ کے ایک غیر معمولی خطرناک موڑ پر پہنچا دیا ہے۔
انہوں نے دوٹوک کہا کہ جنوب لبنان اپنی قربانیوں، حاکمیت اور قومی اہمیت کے ساتھ ہمیشہ لبنان کا حصہ رہے گا؛ جنوبی عوام لبنان کا دروازہ، حاکمیت کی بنیاد اور اس کے وجود کی علامت ہیں۔ جنوب کے بغیر نہ ریاست ہے، نہ قومی شراکت داری اور نہ ہی لبنان کا وجود۔
آپ کا تبصرہ