اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسلام آباد میں منعقدہ سالانہ کانفرنس میں مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں، علمائے کرام اور دینی شخصیات نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس مجلس وحدت مسلمین پاکستان کی میزبانی اور قومی یکجہتی کونسل کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ موجودہ حالات میں مسلم ممالک اور امتِ مسلمہ کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، اس لیے فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دینے کے بجائے مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مقررین نے کہا کہ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ (ص) سے محبت اور آپؐ کی پیروی تمام مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا مشترکہ محور ہے اور اسی مشترکہ بنیاد پر مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان قربت اور بھائی چارے کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ رسولِ اکرم (ص) اخلاق، کردار اور انسانی عظمت کا بہترین نمونہ ہیں، لہٰذا آپؐ کے پیروکاروں کو معاشرے میں حسنِ اخلاق اور اچھے کردار کو فروغ دینا چاہیے۔
انہوں نے پاکستان کی مضبوطی کے لیے قومی اتحاد، قانون کی حکمرانی اور انصاف کو بنیادی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل ایک مضبوط اور مستحکم پاکستان نہیں دیکھنا چاہتے اور ملک میں اندرونی اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں پاکستان کو کمزور کرسکتی ہیں۔
راجہ ناصر عباس جعفری نے مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ معاشرے کو فرقہ وارانہ کشیدگی کی طرف جانے سے روکنے اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کو مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے بھی امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے موجودہ حالات میں مسلمانوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو ناگزیر قرار دیا۔
خیبرپختونخوا کے وزیر مذہبی امور عدنان قادری نے رسولِ اکرم (ص) اور اہل بیتِ اطہار (ع) سے محبت کو امت کے اتحاد کا اہم ذریعہ قرار دیا، جبکہ جماعت اہل حرم کے سربراہ مفتی گلزار احمد نعیمی نے مشترکہ اسلامی اقدار کی بنیاد پر مسلمانوں کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔
کانفرنس کے دیگر مقررین نے بھی مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان مکالمے، اسلامی اخوت کے فروغ اور ایسے اختلافات سے اجتناب کی ضرورت پر زور دیا جو امتِ مسلمہ کے اتحاد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ