8 ستمبر 2026 - 15:30
انڈونیشیا نے ائمہ مساجد کو عالمی سفارت کاری میں ’’سفیرانِ امن قرار دے دیا

انڈونیشیا نے بین الاقوامی ائمہ مساجد کانفرنس 2026 سے قبل ائمہ مساجد کے کردار کو عبادات تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں ’’سفیرانِ امن‘‘ اور عالمی سفارت کاری کے مؤثر کردار کے طور پر سامنے لانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، انڈونیشیا نے بین الاقوامی ائمہ مساجد کانفرنس 2026 سے قبل ائمہ مساجد کے کردار کو عبادات تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں ’’سفیرانِ امن‘‘ اور عالمی سفارت کاری کے مؤثر کردار کے طور پر سامنے لانے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔

انڈونیشیا کے وزیر مذہبی امور نصرالدین عمر نے کہا ہے کہ ائمہ مساجد منبر و محراب کے ذریعے انڈونیشیا کا پیغامِ امن عالمی برادری تک پہنچا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق امامِ مسجد کا کردار صرف مذہبی و عبادی امور تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اخلاق، عوامی تعلیم، سماجی اتحاد، باہمی یکجہتی اور پُرامن بقائے باہمی کے فروغ میں بھی ائمہ کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مساجد عوام کے لیے سب سے زیادہ قابلِ رسائی اجتماعی مراکز ہیں، جو اسلامی اقدار کو اخوت، برداشت، سماجی ذمہ داری اور قومی یکجہتی کے عملی فروغ میں تبدیل کر سکتی ہیں۔

نصرالدین عمر نے ائمہ کی تربیت اور صلاحیتوں میں اضافے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ دینی علم کے ساتھ ائمہ میں قومی شعور، مؤثر ابلاغ کی مہارت، سماجی آگاہی اور عالمی نقطۂ نظر بھی ہونا چاہیے۔ ان کے بقول ائمہ مساجد عالمی سفارت کاری کے دائرے میں انڈونیشیا کے امن اور اسلامی اقدار کا پیغام ملکی سرحدوں سے باہر تک پہنچا سکتے ہیں۔

دوسری جانب انڈونیشیا کے نائب وزیر خارجہ انیس ماتا نے کانفرنس میں یورپ کی مسلم برادریوں کے نمائندوں کو بھی مدعو کرنے کی حمایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ فلسطین کا مسئلہ کانفرنس کے اہم موضوعات میں شامل ہوگا اور بلجیم، آسٹریلیا، کروشیا اور ازبکستان سمیت مختلف ممالک سے مسلم نمائندوں کی شرکت کی امید ہے۔

بین الاقوامی ائمہ مساجد کانفرنس 2026 کا پہلا مرحلہ 25 اور 26 ستمبر کو جکارتہ جبکہ دوسرا مرحلہ 27 اور 28 ستمبر کو جنوبی سماٹرا کے دارالحکومت پالمبانگ میں منعقد ہوگا۔ کانفرنس کا مقصد ائمہ مساجد کے ذریعے امن کے فروغ، مسلم دنیا کے درمیان مکالمے اور فلسطین سمیت اہم عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha