6 ستمبر 2026 - 16:56
نیویارک ٹائمز: مسئلہ صرف آبادکاروں کا تشدد نہیں، اسرائیلی ریاست بھی اس کی پشت پناہ ہے

مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر نیویارک ٹائمز کے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اسے محض چند انتہا پسند آبادکاروں کی کارروائی قرار دینا درست نہیں؛ اسرائیلی حکومت اور فوج کی پالیسیوں اور سرپرستی نے بھی اس تشدد کے تسلسل کے لیے حالات سازگار بنائے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں اضافے کے پس منظر میں نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ معاملہ چند انتہا پسند آبادکاروں تک محدود نہیں بلکہ یہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول کو مزید وسعت دینے کی وسیع تر پالیسی سے جڑا ہوا ہے۔

مغربی کنارہ اسرائیلی قبضے کے لیے اہم میدان

تجزیے کے مطابق مغربی کنارہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول بڑھانے کا اہم مرکز بن چکا ہے، جہاں تقریباً 5 لاکھ اسرائیلی آبادکار 30 لاکھ کے قریب فلسطینیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔

تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی حکومت نے گزشتہ برسوں کے دوران نئی آبادیاں قائم کرکے، فلسطینیوں کی نقل و حرکت محدود کرکے، ان کے گھروں کو مسمار کرکے اور فوجی کارروائیوں میں اضافہ کرکے مغربی کنارے پر اپنا کنٹرول مزید مضبوط کیا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے تجزیے میں آبادکاروں کے مسلح گروہوں کو محض ’’باغی عناصر‘‘ قرار دینے کے بجائے نشاندہی کی گئی ہے کہ ان میں سے بعض علاقائی دفاعی یونٹوں اور فوری کارروائی کرنے والے مسلح گروہوں کی صورت میں بھی سرگرم ہیں۔

تجزیے میں پیش کردہ ایک رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام کی جانب سے مالی اور فوجی مدد نے آبادکاروں کے حملوں کے لیے حالات سازگار بنائے ہیں، جس کے نتیجے میں مغربی کنارے میں مسلح شہریوں اور فوجی اہلکاروں کے درمیان فرق پہلے سے زیادہ کم ہوتا جا رہا ہے۔

فلسطینی خاندانوں پر آبادکاروں کا دباؤ

تجزیے میں مغربی کنارے کے گاؤں قصرہ میں پیش آنے والے حالیہ واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جہاں آبادکاروں نے رکاوٹیں کھڑی کرکے اور فلسطینیوں کے گھروں کے اطراف موجود رہ کر کئی خاندانوں کی نقل و حرکت محدود کی۔

ان گھروں میں سے ایک میں امریکی شہریت رکھنے والے فلسطینی لؤی ابو ریدہ بھی رہتے ہیں۔ تجزیے کے مطابق اسرائیلی حکام اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تعینات امریکی سفیر کی جانب سے ان اقدامات کی مذمت کے باوجود، ایسے واقعات کا مسلسل جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انہیں اسرائیلی حکومت اور فوج کی جانب سے کسی نہ کسی سطح پر تحفظ یا سہولت حاصل ہے۔

نیتن یاہو حکومت پر پالیسیوں کو مزید سخت کرنے کا الزام

تجزیے میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کی پالیسیوں کو بھی اس صورتحال میں اضافے کا ایک اہم سبب قرار دیا گیا ہے۔

اس میں وزیر خزانہ بتسلئیل سموٹریچ کے آبادکاری کے منصوبوں اور فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری میں کردار، جبکہ وزیر داخلی سلامتی اتمار بن گویر کی جانب سے اسرائیلی شہریوں کے لیے اسلحے تک رسائی آسان بنانے کی پالیسیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

تجزیے کے مطابق 2023 میں حماس کی کارروائی کے بعد سے ہزاروں فلسطینی آبادکاروں کے حملوں، اسرائیلی فوجی کارروائیوں، نقل و حرکت پر پابندیوں اور آمدورفت میں رکاوٹوں کے نتیجے میں اپنے گھروں سے بے گھر ہوئے ہیں۔

صرف آبادکاروں کے خلاف کارروائی کافی نہیں: تجزیہ

نیویارک ٹائمز کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ آبادکاروں کے تشدد میں کمی لانا ہی کافی نہیں، بلکہ فلسطینیوں کی زندگیوں کی تباہی روکنے اور ان کے حقِ خود ارادیت کو یقینی بنانے کے لیے اسرائیل پر عالمی دباؤ ضروری ہے۔

تجزیے کے مطابق عالمی برادری کو پہلے مسلح آبادکار گروہوں کی سرگرمیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے اور اس کے بعد مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کے پورے منصوبے کو ختم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دینا چاہیے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha