اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جے ڈی ونس نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس خلیج فارس کے خطے سے نکلنے کا اختیار موجود ہے، لیکن خطے کے ممالک واشنگٹن سے اپنی فوجیں واپس نہ بلانے کی درخواست کر رہے ہیں۔
امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ ترکی، آذربائیجان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، قطر اور بعض دیگر ممالک کھلے یا خفیہ طور پر ایران کے خلاف امریکی کوششوں میں تعاون کر رہے ہیں۔
ونس کا بعض علاقائی ممالک کے خفیہ تعاون کا دعویٰ
ونس نے دعویٰ کیا کہ ان میں سے بعض ممالک اپنے واشنگٹن کے ساتھ تعاون کو علانیہ ظاہر نہیں کرنا چاہتے، تاہم عملی طور پر وہ ایران پر امریکی دباؤ بڑھانے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تعاون آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے معاملے میں ایران کو جواب دہ بنانے کی امریکی کوششوں کا حصہ ہے۔
امریکی نائب صدر نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف تمام آپشنز کھلے ہیں اور امریکی حکومت معاشی، فوجی اور سفارتی دباؤ کے ساتھ خفیہ اقدامات بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔
ونس نے واضح کیا کہ جب تک تجارتی جہازوں پر حملے بند نہیں ہوتے، امریکہ ایران کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ امریکی اقدامات کے بارے میں حتمی فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے۔
ایران پر معاشی دباؤ کے ساتھ فوجی دھمکی بھی برقرار
امریکی نائب صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن ایران کے خلاف معاشی دباؤ میں اضافہ کر رہا ہے۔ امریکی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس دباؤ کا مقصد سمندری تجارت کی سلامتی، توانائی کی منڈیوں کے تحفظ اور ایران کی جوہری صلاحیتوں کی بحالی کو روکنا ہے۔
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
ونس کے بیان سے ایک طرف خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی کی اہمیت کے بارے میں واشنگٹن کا مؤقف سامنے آتا ہے، جبکہ دوسری جانب ان کا بعض علاقائی ممالک کے ایران کے خلاف امریکی اقدامات میں تعاون کا دعویٰ بھی خطے میں جاری سیاسی اور سکیورٹی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ