2 ستمبر 2026 - 15:44
کاٹز: ایران کے ممکنہ حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں

اسرائیلی وزیرِ جنگ یسرائیل کاٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل پر ممکنہ حملے کا خطرہ بڑھ گیا ہے اور اسرائیل رواں ماہ تہران کی کسی بھی ممکنہ کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے دفاعی اور جارحانہ دونوں سطحوں پر تیار ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی وزیرِ جنگ یسرائیل کاٹز نے صہیونی اخبار ’’یدیعوت احارونوت‘‘ کی جانب سے منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکا کی جانب سے ایران پر بڑھتے ہوئے اقتصادی دباؤ کے باعث تہران کی جانب سے اسرائیل پر حملے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

کاٹز نے بغیر کسی ثبوت کے دعویٰ کیا کہ ایران ستمبر میں یہودی مذہبی تہواروں کے دوران اسرائیل پر حملہ کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایسی کسی بھی ممکنہ کارروائی سے نمٹنے کے لیے دفاعی اور جارحانہ دونوں سطحوں پر تیار ہے۔

اسرائیلی وزیرِ جنگ نے مزید کہا کہ اسرائیل کی یہ تیاری امریکا کے ساتھ رابطے اور تعاون کے تحت کی جا رہی ہے۔

انہوں نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے کسی بھی حملے کی صورت میں اسرائیلی جنگی طیارے کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ کاٹز نے دعویٰ کیا کہ ایران لبنان، مغربی کنارے یا غزہ کی صورتِ حال کو جواز بنا کر یا محض تہران کے فیصلے کی بنیاد پر اسرائیل کے خلاف کارروائی کر سکتا ہے۔

کاٹز کے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، ایران نے خطے میں امریکی حملوں کے جواب میں مختلف ممالک میں موجود امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، جبکہ امریکا نے بھی ایران میں بعض اہداف کے خلاف نئے حملوں کا اعلان کیا ہے۔

حالیہ کشیدگی میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب کئی ہفتوں تک نسبتاً کم رہنے والی جھڑپوں کے بعد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی سلامتی، بحری جہازوں پر حملوں اور امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی کرنے والے ممالک میں موجود تنصیبات سے متعلق تنازعات دوبارہ شدت اختیار کر گئے۔

دوسری جانب تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات بھی معاہدے کی شرائط اور سکیورٹی معاملات پر اختلافات کے باعث مشکلات کا شکار ہیں۔ یہ مذاکرات اس سے قبل کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز کی صورتِ حال سے متعلق کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے جاری تھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha