اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمنی ذرائع نے لبنانی اخبار الاخبار سے گفتگو میں کہا ہے کہ اسرائیلی نشریاتی ادارے کان کی یہ رپورٹ قابلِ اعتماد نہیں جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ امریکا نے یمن کی مسلح افواج کے خلاف نئی کارروائی کی قیادت کرنے سے سعودی درخواست مسترد کردی ہے۔
یمنی ذرائع کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے یمن کے خلاف کسی بھی نئی فوجی کارروائی کا امریکا کی شمولیت کے بغیر ہونا مشکل ہے اور واشنگٹن کی حالیہ سرگرمیاں سعودی عرب کی جانب سے مغربی ساحلی علاقوں میں زمینی کارروائی کی تیاری کی حمایت کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔
صنعاء کے ایک باخبر سیاسی ذریعے نے اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی خبریں ممکنہ طور پر یمن کے خلاف امریکی کردار سے توجہ ہٹانے یا مستقبل میں ہونے والی کارروائی کی منصوبہ بندی میں واشنگٹن کے کردار کو چھپانے کی کوشش ہیں۔ ان کے بقول معاملہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان کسی اختلاف کا نتیجہ نہیں۔
ذریعے نے کہا کہ یمن سعودی عرب کی اندرونی محاذوں، بالخصوص مغربی ساحلی محاذ پر ہونے والی تمام فوجی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ اس علاقے کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے خصوصی توجہ حاصل ہے۔
یمن میں امریکی حکام کی سرگرمیاں
یمنی ذریعے کے مطابق یمن میں امریکی سفارت خانے کے ناظم الامور نیل ہوپ نے سعودی اتحاد کی حمایت یافتہ عدن حکومت کی صدارتی کونسل کے متعدد ارکان سے ملاقاتیں اور مشاورت کی ہے۔
ان میں تازہ ترین ملاقات سعودی اتحاد کے حمایت یافتہ مأرب کے گورنر سلطان العرادہ سے ہوئی، جس میں حالیہ فوجی صورتحال سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذریعے نے مزید بتایا کہ امریکی سفارت خانے کے فوجی اتاشی شان نیوکمب بھی سعودی اتحاد کے مختلف محاذوں کے کمانڈروں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
اس کے علاوہ حالیہ دنوں میں امریکا میں سعودی سفیر ریما البندر اور سعودی حمایت یافتہ عدن حکومت کی صدارتی کونسل کی جانب سے مقرر کردہ سفیر جمیلہ علی رجا نے واشنگٹن میں امریکی محکمہ دفاع کے حکام اور کانگریس کے بعض ارکان سے متعدد ملاقاتیں کی ہیں۔
یمنی ذریعے کے مطابق ان تمام سرگرمیوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ یمن کے خلاف کوئی بھی نئی فوجی کارروائی امریکا کی منصوبہ بندی، حمایت اور ممکنہ شمولیت کے ساتھ کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ اپنے دفاعی وعدوں پر اب بھی قائم ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کا مؤقف
اس سے قبل اسرائیلی نشریاتی ادارے کان کے عرب امور کے صحافی روعی کیس نے انصاراللہ کے مخالف گروہوں کے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ واشنگٹن نے ریاض کو بتایا ہے کہ امریکا یمنی مسلح افواج کے خلاف فوجی مہم کی حمایت کے لیے تیار ہے، تاہم اس کی قیادت خود نہیں کرے گا۔
یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی تھی جب سعودی حمایت یافتہ عدن حکومت کی صدارتی کونسل کے بعض ارکان نے یمن میں نئی داخلی جنگ کی تیاریوں کا عندیہ دیا تھا۔
صدارتی کونسل کے رکن عبداللہ العلیمی نے بھی امریکی میڈیا کو بتایا تھا کہ سعودی عرب کی وسیع حمایت کے ساتھ یمن میں داخلی جنگ کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق یمن کا معاملہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور امریکی سینٹ کام کے کمانڈر بریڈ کوپر کے درمیان گزشتہ ماہ ریاض میں ہونے والی ملاقات کے اہم موضوعات میں بھی شامل تھا۔
مغربی یمن میں زمینی کارروائی پر توجہ
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے وسط سے امریکا یمنی مسلح افواج کے خلاف بالخصوص مغربی ساحلی علاقوں اور آبنائے باب المندب پر مشرف پہاڑی علاقوں میں زمینی کارروائی کی حمایت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان علاقوں میں مغربی تعز کے پہاڑی سلسلے بھی شامل ہیں۔
یمنی ذرائع کے مطابق امریکا اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ سیاسی و فوجی سرگرمیوں کو مغربی یمن کے محاذوں پر ممکنہ نئی کشیدگی کے خدشے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
ان کے مطابق اگر ریاض نے یمن کے خلاف نئی فوجی کارروائی شروع کی تو اس میں واشنگٹن کی براہِ راست یا بالواسطہ حمایت اور شمولیت کا امکان موجود ہے۔
آپ کا تبصرہ