اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، قالیباف نے نئے تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر تہران کے شہید آیت بوائز اسکول میں طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسی نسل کے وارث ہیں جس نے دفاع مقدس کے دوران ملک کے دفاع میں بھرپور کردار ادا کیا اور سب سے زیادہ طلبہ شہید ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ آج اسکولوں کا تعلیمی سال ایسے وقت میں شروع ہورہا ہے جب میناب اور دیگر اسکولوں میں ان کے کئی ہم جماعت دشمن کے حملوں میں شہید ہوئے۔ ان کے بقول، ان طلبہ نے ایران کے مستقبل کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
قالیباف نے طلبہ کے ہاتھوں میں موجود ایرانی پرچم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پرچم ایرانی قوم کی شناخت، عزت اور اقتدار کی علامت ہے اور اسے آسانی سے حاصل نہیں کیا گیا بلکہ اس کے پیچھے بے شمار قربانیاں اور جدوجہد موجود ہے۔
ایرانی مجلس کے اسپیکر نے جہالت اور نادانی کو ملک کا حقیقی دشمن قرار دیتے ہوئے کہا کہ درست سوچ، علم، حکمت، محنت اور عقلانیت ہی قوم کو ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جاسکتی ہے۔
انہوں نے شہید رہنما کو ایران کا عظیم ترین استاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مجاہدانہ جدوجہد، مدبرانہ فیصلوں اور بہادری کے ذریعے رہنمائی کی اور شہادت کا مقام حاصل کیا۔ قالیباف نے کہا کہ شہدا آج بھی قوم کے لیے رہنمائی کا چراغ ہیں۔
یکم مہر، قومی یومِ پرچم کے موقع پر قالیباف نے طلبہ کے ہمراہ ایران کا تین رنگوں والا قومی پرچم بھی لہرایا۔ اس موقع پر انہوں نے ان 11 طلبہ کو تحائف اور تعریفی اسناد پیش کیں جن کے والدین جنگوں کے دوران شہید ہوئے تھے اور شہدا کے اہل خانہ سے ملاقات بھی کی۔
آپ کا تبصرہ