31 اگست 2026 - 15:34
عراق میں 8 ہزار قیدی سزائے موت کے منتظر؛ سالانہ 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے اخراجات اور قانونی پیچیدگیاں

عراق کی جیلوں میں تقریباً 8 ہزار قیدی سزائے موت پر عمل درآمد کے منتظر ہیں، جن کے صرف کھانے پر سالانہ 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے زائد خرچ آتا ہے۔ سابق عراقی وزیر کے مطابق قانونی پیچیدگیوں، مقدمات پر نظرثانی کی درخواستوں اور داعش کے ہزاروں ملزمان کی عراق منتقلی نے سزائے موت اور جیلوں کے انتظام کا معاملہ بغداد کے لیے ایک سنگین قانونی، سکیورٹی اور سیاسی چیلنج بنا دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کے سابق وزیر باقر الزبیدی نے ملک کی معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ دہشت گردی اور دیگر جرائم کے مقدمات میں سزا پانے والے تقریباً 8 ہزار افراد جیلوں میں سزائے موت پر عمل درآمد کے منتظر ہیں۔

ان کے مطابق 2006 سے اب تک عراق میں سزائے موت پانے والے افراد کی مجموعی تعداد تقریباً 14 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

باقر الزبیدی نے بتایا کہ ان قیدیوں کے کھانے پر سالانہ تقریباً 56 ارب عراقی دینار، یعنی 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے زائد خرچ ہوتے ہیں، جبکہ علاج، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔

سابق عراقی وزیر نے سزائے موت پر عمل درآمد میں تاخیر کی ایک وجہ مقدمات پر دوبارہ غور کی درخواستوں کے لیے موجود قانونی راستے کو قرار دیا۔ ان کے مطابق عراقی وزیر انصاف خالد شوانی نے بتایا ہے کہ اگر کسی سزا یافتہ شخص کے پاس ایسا نیا ثبوت یا دلیل موجود ہو جو مقدمے کی سماعت کے وقت دستیاب نہیں تھی تو وہ دوبارہ عدالتی کارروائی کی درخواست دے سکتا ہے۔

الزبیدی نے اس طریقہ کار کو ’’قانونی خلا‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض سزا یافتہ افراد اور ان کے حامی اس قانونی راستے کو سزائے موت پر عمل درآمد مؤخر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

دوسری جانب عراق کو شام سے داعش کے ہزاروں ملزمان کی منتقلی کے بعد ایک نئے چیلنج کا بھی سامنا ہے۔ عراق کی اعلیٰ عدالتی کونسل سے وابستہ مرکز برائے بین الاقوامی عدالتی تعاون نے فروری 2026 میں اعلان کیا تھا کہ شمال مشرقی شام کی جیلوں میں قید 5 ہزار 704 داعش کے ملزمان کو عراق کے حوالے کیا گیا ہے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب عراق کی جیلیں پہلے ہی گنجائش سے زیادہ قیدیوں اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل سے دوچار ہیں، جبکہ مزید قیدیوں کی آمد سے عدالتی اور جیل انتظامیہ پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔

علاوہ ازیں، رافدین انٹرنیشنل سینٹر فار جسٹس اینڈ ہیومن رائٹس نے ناصریہ کی مرکزی جیل، جسے ’’الحوت‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، میں قیدیوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مرکز نے جیل میں خوراک، پینے کے پانی اور ادویات کی مبینہ قلت کے علاوہ تشدد، بدسلوکی اور اہلِ خانہ سے ملاقاتوں پر پابندیوں کے الزامات کی بھی نشاندہی کی ہے اور ان دعوؤں کی آزادانہ تحقیقات اور قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

عراق کو اس وقت ایک طرف دہشت گردی اور دیگر سنگین جرائم کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے، دوسری طرف منصفانہ عدالتی کارروائی یقینی بنانے، جبکہ تیسری جانب معاشی دباؤ اور جیلوں میں بڑھتی ہوئی قیدیوں کی تعداد جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha