24 اگست 2026 - 15:28
شام میں اسرائیلی حملوں پر ترکیہ خاموش کیوں ہے؟

شام کے ادلب میں ابو ال ظہور فوجی اڈے پر حالیہ اسرائیلی حملے کے بعد ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست تصادم کا خطرہ ایک بار پھر سامنے آیا ہے، تاہم انقرہ اور دمشق فی الحال تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تل ابیب سے براہِ راست محاذ آرائی سے گریز کر رہے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیل نے ادلب کے مشرق میں واقع ابو ال ظہور فوجی اڈے کو نشانہ بنایا، جو ترکیہ کی سرحد سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس حملے کے بعد ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان شام میں براہِ راست تصادم کے امکانات پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ اسرائیل نے واضح طور پر کہا ہے کہ اس حملے کا مقصد علاقے میں ترکیہ کی فوجی موجودگی کو روکنا تھا۔

دوسری جانب ترکیہ کی وزارت دفاع نے اس اڈے پر اپنی فوجی موجودگی کی تردید کی ہے، جبکہ دمشق نے وہاں ترک افسران کی موجودگی کو فوجی اور تربیتی تعاون کا حصہ قرار دیا ہے۔

2024 کے اواخر میں شام کی سابق حکومت کے تیزی سے خاتمے کے بعد اسرائیل نے شام کے فوجی ڈھانچے اور تنصیبات کے خلاف سیکڑوں فضائی حملے کیے جبکہ جنوبی شام کے بعض علاقوں میں قائم بفر زون کے کچھ حصوں پر بھی قبضہ کرلیا۔

تل ابیب نے جنوبی شام میں نئی سکیورٹی صورتحال پیدا کرنے کے ساتھ ان فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا ہے جہاں اسے خدشہ ہے کہ ترکیہ اپنی فوج تعینات کرنا چاہتا ہے۔ اس کا مقصد شام میں نئی حکومت کے استحکام اور انقرہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنا ہے۔

تاہم موجودہ صورتحال میں دمشق اور انقرہ نے اسرائیلی حملوں کو برداشت کرتے ہوئے براہِ راست فوجی جواب دینے سے گریز کیا ہے۔ شام اس وقت پورے ملک پر اپنی خودمختاری مضبوط کرنے اور فوجی و سکیورٹی اداروں کی ازسرنو تشکیل میں مصروف ہے، جبکہ ترکیہ نئی شامی حکومت کو مستحکم کرنے کے ساتھ شام کی ڈیموکریٹک فورسز کے معاملے کو بھی حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تجزیے کے مطابق دونوں ممالک کا خیال ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ حالات ان کے حق میں تبدیل ہوسکتے ہیں اور مستقبل میں اسرائیلی دباؤ کا زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے لیے بہتر موقع مل سکتا ہے۔

اس تجزیے کے مطابق ترکیہ اس وقت صرف اسی صورت میں اسرائیل کے خلاف براہِ راست کارروائی کرے گا جب تل ابیب شام کی سرزمین پر ترکیہ کے مفادات یا اس کی فوج کو براہِ راست نشانہ بنائے۔ ترک حکام اسرائیلی حملوں کو کسی حد تک اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی پارلیمانی انتخابات سے قبل سیاسی ضرورتوں سے بھی جوڑتے ہیں۔

دوسری جانب بعض اسرائیلی سیاست دانوں کی جانب سے ان حملوں پر تنقید سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے اندر بھی ترکیہ کے ساتھ ممکنہ تصادم کے نتائج پر تشویش پائی جاتی ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست جنگ چھڑتی ہے تو بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے اور خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے امریکا کے مداخلت کرنے کا امکان ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha