اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، خلیل الحیہ نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی حملوں میں مسلسل اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اسرائیل اپنی جارحانہ پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے اور سفارتی کوششوں، ثالثی اور جنگ بندی کی ضمانتوں کو نظرانداز کر رہا ہے۔
انہوں نے ثالثوں اور جنگ بندی کے ضامن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر مداخلت کرتے ہوئے اسرائیلی حکومت کو غزہ پر حملے روکنے پر مجبور کریں تاکہ جنگ بندی معاہدہ ختم ہونے اور دوبارہ وسیع جنگ چھڑنے کا راستہ روکا جاسکے۔
الحیہ نے خبردار کیا کہ کشیدگی میں مزید اضافے کی صورت میں ثالثوں اور جنگ بندی کے ضامن ممالک پر ایک اہم اور فیصلہ کن ذمہ داری عائد ہوگی۔
حماس نے اس سے قبل غزہ شہر میں ایک پولیس مرکز پر اسرائیلی حملے کی بھی شدید مذمت کی تھی، جس میں 9 فلسطینی شہید ہوئے تھے۔ حماس کے مطابق شہداء میں زیادہ تر فلسطینی پولیس اہلکار شامل تھے اور یہ حملہ جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
حماس نے کہا کہ یہ حملہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے اپنی ذمہ داریوں سے فرار اور جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد جاری رکھنے کی مخالفت کا واضح ثبوت ہے۔
آپ کا تبصرہ