20 اگست 2026 - 16:34
مآخذ: ذرائع
جارج ڈبلیو بش پر جوتے پھینکنے والے عراقی صحافی کو 18 سال بعد، کوئی پچھتاوا نہیں ہے

عراقی صحافی منتظر الزیدی نے کہا ہے کہ اگر انہیں دوبارہ موقع ملا تو وہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش پر جوتے پھینکنے کا عمل پھر بھی دہرائیں گے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ 14 دسمبر 2008 کو بغداد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران 28 سالہ عراقی صحافی منتظر الزیدی نے ـ عراق پر بلا وجہ جارحیت کا ارتکاب کرنے والے اس وقت کے امریکی صدر ـ جارج ڈبلیو بش پر یکے بعد دیگرے اپنے دونوں جوتے پھینک دیے تھے۔

پہلا جوتا پھینکتے ہوئے انہوں نے چیخ کر کہا تھا کہ ’یہ عراقی عوام کی طرف سے الوداعی بوسہ ہے، جبکہ دوسرا جوتا پھینکتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ عراق میں بیوہ ہونے والی خواتین، یتیموں اور لاکھوں شہیدوں کی خاطر ہے۔‘

جارج ڈبلیو بش پر جوتے پھینکنے والے عراقی صحافی کو 18 سال بعد، کوئی پچھتاوا نہیں ہے

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ لڑنے والے اور عراق اور افغانستان پر قبضہ کرنے والے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش اپنے دوسرے دور صدارت کے اختتام کے قریب تھا۔

سنہ 2003 میں امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج نے 11 ستمبر کے حملوں کے بعد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ کے نام پر ـ افغانستان کے بعد ـ عراق پر حملہ کیا تھا۔

جارج ڈبلیو بش پر جوتے پھینکنے والے عراقی صحافی کو 18 سال بعد، کوئی پچھتاوا نہیں ہے

امریکی انتظامیہ کا دعویٰ تھا کہ اس وقت کا عراقی صدر صدام حسین بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تیار کرکے چھپا رہا ہے، تاہم ایسے ہتھیاروں کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

جارج ڈبلیو بش پر جوتے پھینکنے والے عراقی صحافی کو 18 سال بعد، کوئی پچھتاوا نہیں ہے

عراق پر حملے اور قبضے کے نتیجے میں لاکھوں عراقی شہید اور ہزاروں امریکی فوجی ہلاک ہوئے، جبکہ جنگ پر امریکہ کے اخراجات کا تخمینہ 815 ارب ڈالر لگایا گیا۔ اور ٹرمپ نے اپنے پہلے دور میں یہ اخراجات 7000 ارب ڈالر بتا دیئے۔

جارج ڈبلیو بش پر جوتے پھینکنے والے عراقی صحافی کو 18 سال بعد، کوئی پچھتاوا نہیں ہے

منتظر الزیدی نے 18 سال بعد کہا ہے کہ انہیں اپنے اس اقدام پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے اور وہ آج بھی اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔

اس واقعے کے بعد الزیدی کو گرفتار کر لیا گیا تھا؛ اور ان کے مطابق دورانِ حراست انہیں تین روز تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور تین ماہ تک قیدِ تنہائی میں رکھا گیا، جبکہ انہیں 3 سال قید کی سزا بھی سنائی گئی۔

جارج ڈبلیو بش پر جوتے پھینکنے والے عراقی صحافی کو 18 سال بعد، کوئی پچھتاوا نہیں ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha