اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کی 2022 کی رپورٹ کے مطابق یمن میں تقریباً 13 لاکھ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین غذائی قلت کا شکار تھیں، جبکہ پانچ سال سے کم عمر 22 لاکھ سے زائد بچے شدید غذائی قلت سے متاثر تھے۔
صنعا کے السبعین اسپتال میں ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں بتایا گیا کہ 2025 سے 2026 کے پہلے نصف تک اس اسپتال میں 54 ہزار سے زائد خواتین اور بچوں کا علاج کیا گیا، جن میں بڑی تعداد ایسے مریضوں کی تھی جو انتہائی تشویشناک حالت میں اسپتال پہنچے۔ مریضوں کی بڑھتی تعداد کے باعث اسپتال میں بستروں کی تعداد بھی 100 سے بڑھا کر 450 سے زیادہ کردی گئی۔
یمن کی سپریم کونسل برائے انسانی امور کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کے 15 صوبوں میں تقریباً 76 لاکھ افراد بے گھر ہوچکے ہیں، جبکہ بے گھر خاندانوں میں تقریباً ایک تہائی کی سربراہی خواتین کر رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق بے گھر خواتین کو محفوظ رہائش اور بنیادی سہولیات کی کمی کے ساتھ ساتھ نجی زندگی کے تحفظ، سکیورٹی خطرات اور خوراک و صحت کی سہولیات کی قلت جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ غذائی بحران اور مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ نے خواتین اور بچوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
یمن کی وزارت اطلاعات میں خواتین امور کی ڈائریکٹر جنرل اور انسانی حقوق کی تنظیم ’’انتصاف‘‘ کی سربراہ سمیہ الطائفی نے جنگ اور محاصرے کے انسانی اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے متاثرین کے نقصانات کے ازالے، ذمہ داروں کے احتساب اور محاصرے کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
دوسری جانب یمن کی سپریم کونسل برائے ماں اور بچے کی سیکریٹری جنرل اخلاق الشامی نے یمنی خواتین کو عوام کے صبر اور استقامت کا اہم ستون قرار دیا۔ ان کے مطابق خواتین نے شعور، ایمان اور سماجی ذمہ داری کے جذبے کے ساتھ مشکل حالات میں اپنے خاندانوں اور معاشرے کا ساتھ دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یمنی خواتین طب، تعلیم، انتظامیہ، ثقافت، سیاست، صحافت اور سماجی سرگرمیوں سمیت مختلف شعبوں میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق خواتین نے متعدد سماجی منصوبے شروع کیے اور محاصرے کے اثرات کم کرنے کے لیے ملک میں مختلف اشیا اور مصنوعات کی مقامی سطح پر تیاری میں بھی حصہ لیا۔
یمنی خواتین جہاں ایک طویل انسانی بحران کے شدید اثرات برداشت کر رہی ہیں، وہیں خاندان کے تحفظ، سماجی یکجہتی اور معاشرتی استقامت کو برقرار رکھنے میں بھی بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔
آپ کا تبصرہ