اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، علی الطاہر کی پہاڑیاں جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں، بالخصوص نبطیہ اور اس کے اطراف پر نظر رکھنے کی وجہ سے غیر معمولی فوجی اہمیت رکھتی ہیں۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق، علاقے میں سرنگوں اور زیرِ زمین تنصیبات کا سراغ لگانے اور انہیں تباہ کرنے کے لیے حملوں کے ساتھ ساتھ انجینئرنگ کارروائیاں بھی جاری ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکمتِ عملی صرف فضائی حملوں تک محدود نہیں بلکہ زمینی کارروائیوں کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج علاقے میں بعض سرنگوں اور زیرِ زمین تنصیبات کو بڑے پیمانے پر دھماکوں سے تباہ کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیلی فوج کے انخلا اور جنوبی لبنان میں لبنانی فوج کی تعیناتی سے متعلق مذاکرات جاری ہیں۔
لبنان نے علی الطاہر کو ان معاہدوں میں شامل کرنے کی مخالفت کی ہے، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اسرائیل اس علاقے کو انخلا کے معاملے میں نئے سکیورٹی اور سیاسی مطالبات منوانے کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال کرسکتا ہے۔
دوسری جانب جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں کی موجودگی برقرار رکھنے اور مزید علاقوں میں پیش قدمی و کنٹرول کے مختلف منصوبوں کی اطلاعات نے تل ابیب کی جانب سے طویل مدتی فوجی موجودگی قائم کرنے کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
تاہم دستیاب شواہد کی بنیاد پر یہ حتمی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ اسرائیل نے علی الطاہر میں بڑے پیمانے پر زمینی کارروائی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس صورتحال میں امریکا کا مؤقف بھی آئندہ اسرائیلی اقدامات کی نوعیت اور دائرہ کار طے کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
یوں علی الطاہر اب جنوبی لبنان میں محض ایک جغرافیائی مقام یا فوجی ہدف نہیں رہا بلکہ یہ ایک اہم فوجی، سکیورٹی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔
اسرائیل مبینہ زیرِ زمین تنصیبات کو تباہ کرکے علاقے میں دوبارہ فوجی صلاحیت کی بحالی روکنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ لبنان اسرائیلی فوج کے غیر مشروط انخلا پر زور دے رہا ہے۔ اس لیے علی الطاہر کا مستقبل جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی آئندہ موجودگی یا انخلا کی صورتِ حال واضح کرنے والے اہم عوامل میں شمار ہوگا۔
آپ کا تبصرہ