اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی سکیورٹی اداروں میں وزیرِ جنگ یسرائیل کاتز کی جانب سے مغربی کنارے میں آبادکاروں سے متعلق معاملات میں قانون نافذ کرنے کے اختیارات فوج سے پولیس کو منتقل کرنے کی تجویز پر شدید اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے قانونی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ نظام میں اس منصوبے پر عمل درآمد ممکن نہیں۔ فوجی حکام کے مطابق یہ منصوبہ مغربی کنارے میں رائج انتظامی ڈھانچے اور زمینی صورتِ حال سے مطابقت نہیں رکھتا۔
اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق فوجی حکام نے کاتز کی ہدایات کی قانونی اور عملی بنیادوں پر اعتراض کیا ہے۔ قانونی ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس منصوبے پر عمل درآمد کو عالمی سطح پر مغربی کنارے کے الحاق کے طور پر تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
کاتز نے جمعہ کو اسرائیلی فوج کو ہدایت دی تھی کہ مغربی کنارے میں شہری معاملات سے متعلق قانون نافذ کرنے کے اختیارات پولیس کو منتقل کرنے کے لیے ایک منصوبہ تیار کیا جائے۔ اس منصوبے کے تحت پولیس اس مقصد کے لیے ایک خصوصی یونٹ تشکیل دے گی، جبکہ فوج کی ذمہ داری فلسطینیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں تک محدود رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ایک سینئر اسرائیلی فوجی افسر نے ہارٹز کو بتایا کہ کاتز کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں نافذ قوانین اور اختیارات کے موجودہ نظام سے پوری طرح واقف نہیں۔ اس افسر کے مطابق اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ مغربی کنارے میں اختیار کس کے پاس ہے اور اس نوعیت کے اقدامات کے نتائج کیا ہوں گے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں موجودہ نظام کے تحت اسرائیلی فوج کی مرکزی کمان کا سربراہ فوجی اختیارات رکھتا ہے، جبکہ اسرائیلی پولیس مخصوص اختیارات کے تحت فوج کے ساتھ رابطے اور تعاون کے ذریعے کارروائیاں کرتی ہے۔
اسرائیلی فوجی افسران کے مطابق پولیس کو ’’اے‘‘ کے طور پر درجہ بندی کیے گئے علاقوں میں آزادانہ کارروائی کا اختیار حاصل نہیں اور وزیرِ جنگ براہِ راست پولیس افسران کو ایسے احکامات جاری نہیں کر سکتا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ کاتز کی جانب سے واقعات کو ’’شہری معاملات‘‘ اور ’’فلسطینیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں‘‘ میں تقسیم کرنا مغربی کنارے کی پیچیدہ زمینی صورتِ حال کو نظر انداز کرتا ہے، کیونکہ آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان شروع ہونے والا معمولی تصادم بھی مختصر وقت میں بڑے واقعے میں تبدیل ہو سکتا ہے جس میں فوجی اہلکار شامل ہو سکتے ہیں اور فائرنگ تک نوبت پہنچ سکتی ہے۔
ایک سینئر اسرائیلی افسر نے گزشتہ ماہ فلسطینی گاؤں تل میں پیش آنے والے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ایسے واقعات دیکھے جا چکے ہیں جب پرتشدد جھڑپ اچانک اسلحہ چھیننے اور فوجیوں پر قریب سے فائرنگ تک پہنچ گئی۔
آپ کا تبصرہ