اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی سخت کیے جانے اور تہران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے ساتھ آبنائے ہرمز کی صورتحال دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی کا اہم مرکز بن گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکومت کی ترجیحات میں ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے ساتھ توانائی کی قیمتوں میں کمی اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرانا شامل ہے۔ دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ وہ اقتصادی پابندیوں اور دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور آبنائے ہرمز میں آمدورفت متاثر ہونے اور توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے بالآخر واشنگٹن پر دباؤ بڑھے گا۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے بھی واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایرانی تھا، ایرانی ہے اور ایرانی رہے گا اور اسے کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ ایران کے اختیار میں ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ابتدا میں ایران کے خلاف جنگ کا مقصد تہران کو ایسا معاہدہ قبول کرنے پر مجبور کرنا قرار دیا تھا جس کے ذریعے ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکا جاسکے، تاہم جنگ طول پکڑنے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی توانائی کی ترسیل پر ایران کے اثر و رسوخ میں اضافے کے بعد واشنگٹن کی توجہ اقتصادی دباؤ اور آبنائے ہرمز کی بحالی کی جانب زیادہ ہوگئی ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدے کے امکانات کے حوالے سے زیادہ بدگمان ہوگئی ہے اور ایران کی معیشت پر دباؤ بڑھا کر تہران کو آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کرنا چاہتی ہے، تاکہ جنگ ختم کرکے اسے اپنی ’’فتح‘‘ قرار دیا جاسکے۔
امریکی اخبار نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں نمایاں کمی کی بھی نشاندہی کی۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ جمعرات کو صرف 13 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے، جبکہ جنگ سے قبل روزانہ اوسطاً 130 سے زائد بحری جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرتے تھے۔
دوسری جانب امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کی بحری ناکہ بندی غیر معینہ مدت تک جاری رکھ سکتا ہے اور خطے میں طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کی جگہ جارج واشنگٹن کو تعینات کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق توانائی کی ترسیل میں مسلسل خلل، دونوں جانب بڑھتے اقتصادی نقصانات اور امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات قریب آنے کے باعث واشنگٹن کو بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ ایسے میں جنگ کا بنیادی سوال اب بھی برقرار ہے کہ سب سے پہلے کون پیچھے ہٹے گا؟
آپ کا تبصرہ