اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، افغانستان میں شدید گرمی کے موسم کے دوران بجلی کی طویل بندش نے شہریوں کے مسائل میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ طالبان حکومت کی جانب سے ملک میں بجلی کی پیداوار کے ذرائع مضبوط بنانے کے وعدوں کے باوجود عوام اب بھی مسلسل اور طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔
العربی الجدید کی رپورٹ کے مطابق، اگست 2021 میں امریکی افواج کے انخلا اور طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغان عوام کو توقع تھی کہ ملک میں امن کے ساتھ بنیادی سہولیات بھی بہتر ہوں گی، تاہم بجلی کا بحران بدستور برقرار ہے۔
افغانستان میں گزشتہ برسوں کی جنگ کے دوران بجلی کا بنیادی ڈھانچہ بھی شدید متاثر ہوا۔ مختلف مسلح گروہوں کی جانب سے وسطی ایشیائی ممالک، خصوصاً تاجکستان، ترکمانستان اور ازبکستان سے کابل اور پھر ملک کے جنوبی و مشرقی علاقوں تک بجلی پہنچانے والی ترسیلی لائنوں کے کھمبوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔
رپورٹ کے مطابق بعض مواقع پر طالبان اور بعض اوقات نامعلوم مسلح گروہوں کی جانب سے بجلی کے کھمبوں اور لائنوں کو نقصان پہنچایا گیا، جس کے نتیجے میں کابل، جنوبی اور مشرقی افغانستان کے مختلف علاقوں میں کئی دنوں بلکہ بعض اوقات کئی ہفتوں تک بجلی کی فراہمی معطل رہی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بجلی کی ترسیلی لائنوں کو مسلح گروہوں کی جانب سے نقصان پہنچانے کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم اس کے باوجود جنوبی اور مشرقی افغانستان کے عوام اب بھی طویل اور مسلسل بجلی کی بندش سے پریشان ہیں۔
شدید گرمی میں بجلی کی طویل بندش نے گھریلو زندگی، کاروبار اور شہریوں کی بنیادی ضروریات کو مزید متاثر کردیا ہے، جبکہ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے طالبان حکومت کے وعدوں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ