اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،مشرقی لیبیا کے حکام نے فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ میجر جنرل فوزی المنصوری کی گاڑی میں دھماکے کے نتیجے میں ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔
مقامی حکام کے مطابق یہ دھماکا پیر کی شب بنغازی کے علاقے الہواری میں ہوا، جہاں ایک گاڑی کو مبینہ طور پر دیسی ساختہ بم کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے کے بعد سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تصاویر میں ایک گاڑی کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا گیا، جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ فوزی المنصوری کی تھی۔
دو سیکیورٹی ذرائع نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ المنصوری دھماکے میں جاں بحق ہوئے، تاہم حملے کے ذمہ داروں یا بم کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
لیبیا کے مقامی میڈیا نے بھی سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ بنغازی میں مسجد السیدہ عائشہ کے قریب ایک گاڑی کو دھماکے سے اڑا دیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق المنصوری خود گاڑی چلا رہے تھے اور بعد ازاں ان کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی۔
مشرقی لیبیا کے حکام نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ دھماکے کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ دار عناصر کو گرفتار کیا جائے۔
فوزی المنصوری کو 2024 میں بنغازی میں فوجی انٹیلی جنس کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا اور اسی دوران انہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔
دوسری جانب لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن کے سربراہ مسعود سلیمان نے کہا ہے کہ الزاویہ آئل ریفائنری میں پٹرول کے ایک ذخیرے کو پہنچنے والے نقصان کی تحقیقات جاری ہیں۔
انہوں نے تیل کی تنصیبات اور ذخیرہ گاہوں کے اطراف پیش آنے والے ایسے واقعات کے خطرات سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے ملک کے ایندھن کی فراہمی کا نظام براہ راست متاثر ہوسکتا ہے۔
لیبیا کی نیشنل آئل کارپوریشن نے پیر کی شب شمال مغربی شہر الزاویہ میں ایک ایندھن کے ٹینک میں آگ لگنے اور اس کے بعد ٹینک منہدم ہونے کے واقعے کے بعد انتہائی ہنگامی صورتحال نافذ کردی تھی۔
مقامی ذرائع نے الجزیرہ کو بتایا کہ الزاویہ ریفائنری میں دھماکا مبینہ طور پر ڈرون حملے کے نتیجے میں ہوا، جس سے بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
نیشنل آئل کارپوریشن کے مطابق واقعے میں کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔ ادارے نے اسے اتوار اور پیر کے دوران علاقے کی تیل تنصیبات پر ہونے والے مسلسل تیسرے حملے سے تعبیر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ خطے کے تیل کے اثاثے بدستور خطرے میں ہیں۔
دریں اثنا، نیشنل سیفٹی آرگنائزیشن کے شعبہ بحران و ہنگامی صورتحال کے سربراہ محمد علی البکوش نے کہا ہے کہ الزاویہ ریفائنری میں آگ لگنے کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہوسکی اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
آپ کا تبصرہ