اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں وزیرِ جنگ رہنے والے مارک اسپر نے آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے ایران کی نئی شرائط پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان شرائط سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکام مذاکرات میں اپنی پوزیشن اور آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول سے حاصل ہونے والے دباؤ کے حربے پر پُراعتماد ہیں۔
اسپر نے کہا: ’’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں برتری حاصل ہے، انہیں یقین ہے کہ وہ کامیاب ہو رہے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ہمیں اس وقت اسی صورتحال کا سامنا ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایرانی قیادت مزید پُراعتماد ہو گئی ہے اور عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کو مضبوط سمجھتی ہے۔
سابقہ امریکی وزیرِ جنگ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے دوران امریکہ میں بعض اہم اسلحہ اور گولہ بارود کی شدید قلت کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ امریکی حکومت ان کی پیداوار بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
اسپر نے کہا کہ اگر ایک پیٹریاٹ میزائل کی تیاری میں دو سال لگتے ہیں تو امریکہ کی جانب سے موجودہ وقت میں کیے جانے والے اقدامات مختصر مدت میں کوئی مدد فراہم نہیں کر سکتے۔
انہوں نے امریکہ میں اسلحہ کی قلت کے مسئلے کو کئی دہائیوں پرانا قرار دیتے ہوئے کہا کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے ساتھ ساتھ بعد کے برسوں میں امریکی اسلحہ کے استعمال اور دیگر ممالک کو اس کی فراہمی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ